وہ صبح کوئی عام صبح نہ تھی جب اہل وطن کی آنکھ زوردار گھن گرج کے ساتھ کھلی۔ یہ میزائلوں اور فضا میں بلند ہوتے ان جہازوں کی چنگاڑھ تھی جو کمال بہادری سے اپنے اہداف پر لپک رہے تھے اور جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کو دھول چٹا دی۔ پاکستانی فضا کو تسخیر کرنے کے لیے بڑھنے والا دشمن اپنی فضائیں بھی چھوڑ کر زمیں بوس ہوگیا۔ پاکستان کے ان غازیوں کے جوابی وار کی شدت، حیرت انگیز مہارت اور اہداف پر انتہائی درستگی کے ساتھ وار نے دشمن کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے ماہرین کو ششدر کر دیا۔ یہ ایک منفرد، چمکدار اور اجلی صبح تھی جس نے حقیقی معنوں میں ایک نئے پاکستان کو جنم دیا۔ پہلے سے زیادہ طاقتور، پر اعتماد، توانا اور ساری دنیا کے لیے بھروسہ مند ۔
10 مئی معرکہ حق کی سالگرہ ایک تہوار کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پورا ملک جوش، ولولے، خوشی اور جذبات کے رنگوں سے مزّین ہے اور اس حوالے سے تقاریب کا اہتمام بھی جاری ہے۔ اس معرکہ نے دشمن کی شکست اور اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ سمیٹا ہے۔ کئی طرح کے واہموں، افسانوں اور خود فریبیوں کے چہرے سے نقاب اتر گئی۔ ایک واہمہ اس جنگ سے قبل تھا جس کے تحت بیشتر ممالک بھارت کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر دیکھتے تھے جس کو کسی معاملے میں نظر انداز کر کے آگے بڑھنا آسان نہ تھا۔ بھارت بھی اپنا رعب و دبدبہ دکھا کر خود کو اس خطے کا شہنشاہ سمجھتا تھا۔ معرکہ حق نے بھارت کی یہ جعلی شاہی پوشاک اتار کر اسے تمام عالم میں عریاں اور غیر متعلق کر دیا ہے۔ خواب زمینی حقائق سے میل نہ کھائیں تو انجام یہی ہوتا ہے۔ حالیہ امریکا ایران جنگ اور اس کے بیچ چلتی سفارتکاری میں جس طرح بھارت نظر انداز ہوا وہ اس کے اکیلے پن کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے۔
ایک واہمہ امریکا کا بھی تھا کہ جو ایک طویل مدت سے بھارت کو پاکستان پر ہمیشہ فوقیت دیتا نظر آتا تھا۔ امریکا نے ایک ایسی افسانوی دنیا تخلیق کر رکھی تھی جس میں وہ بھارت کو چین کے مقابل کھڑا کر کے اسے بے چین رکھنا چاہتا تھا۔ معرکہ حق نے امریکا کا یہ واہمہ بھی ملیامیٹ کر دیا ہے۔ بھارت نے جس طرح پاکستان کی جوابی یلغار کو روکنے کے لئے امریکا کی منت سماجت کی، اس سے جنگ تو رک گئی مگر ساتھ ہی امریکا کے اندر بھارت کا تصور بھی بدل گیا اور امریکا کو ادراک ہوگیا کہ جو بھارت پاکستان کے آگے نہیں ٹھہر سکا وہ بھلا کیا چین کا مقابلہ کیسے کرے گا۔کچھ سہانے سپنے اسرائیل نے بھی سجا رکھے تھے جو بھارت کے ذریعے پاکستان کو کمزور اور بے دست و پا دیکھنا چاہتا تھا۔ رسوا کن شکست اور اپنے مکروہ خواب بکھرنے کے بعد بھی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ نے حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے افغانستان کے راستے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے کندھوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر متعدد مقامات پر یکبارگی حملے کر دیے۔ ان بھارتی افزائش زدہ فتنہ پرور گروہوں کو بھی ایک واہمہ نے جکڑ رکھا تھا کہ کچھ بھی کر لیں پاکستان روایتی جذبہ ایثار، باہمی رواداری اور اندرونی دباؤ کے باعث ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کر ے گا، مگر اب اس کا سامنا ایک نئے ابھرتے ہوئے پاکستان سے تھا، جس نے جوابی حملوں میں ان بھارتی کٹھ پتلیوں کے ٹھکانوں پر تاک تاک کر وہ حملے کیے جسے ہ کبھی فراموش نہ کر پائے گا۔ بھارت کے ان افغان حواریوں کی بھی بہت سی غلط فہمیاں اب رفع ہو چکی ہیں اور اس کے نتیجے میں افغانستان سے آئی بھارتی حمایت یافتہ در اندازی اور دہشتگردی میں نمایاں کمی آچکی ہے۔
پاکستان کی تصویر کو مسخ کرنے کی بھارت کی پروپیگنڈا مہم کو بھی معرکہ حق نگل چکا ہے۔ ایک دنیا بھارت کے پھیلائے اس تصور سے ہم آہنگ تھی کہ پاکستان ایک دہشتگرد اور ناکام ریاست ہے۔ معرکہ حق میں اس ’ناکام ریاست‘ کے ہاتھوں اپنی ناکامی کو سمیٹنا بھی اب اس کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے معرکہ حق نے ایک نیا بھارت بھی تشکیل دیا ہے جو پسپائی، رسوائی، تنہائی اور جگ ہنسائی کی پہچان بن چکا ہے۔
یہ معرکہ حق میں دکھائی گئی شجاعت اور پیشہ وارانہ مہارت ہی تھی جس کی بدولت آج پاکستان کو دنیا امن کا ضامن قرار دے رہی ہے۔ آج اقوام عالم میں پاکستان مبینہ دہشتگرد کے بجائے سب سے مضبوط صدائے امن ہے، اور عنقریب دنیا اسلام آباد سے امن معاہدوں کا اعلان ہوتا دیکھے گی۔ برسوں قبل علامہ اقبال نے یہی حقیقت بتائی تھی کہ شجاعت اور دلیری ہی اقوام عالم میں ارفع مقام دلا سکتی ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
کچھ واہمے اس وطن کے ایک طبقے نے بھی پال رکھے تھے۔ ایسے پراگندہ اذہان بڑی ریاضت سے تیار کیے گئے جو پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو نہ صرف نگاہ تشکیک سے دیکھتے بلکہ اسے کمزور باور کروانے کے لیے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ معرکہ حق کے دنوں میں بھی ان متعفن آوازوں نے پاکستان کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی اپنی سی ناکام کوششیں بھی کیں۔ معرکہ حق کے بعد ان کے دلوں میں آباد پاکستان مخالف مورچے بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج نے جس دلیری، مہارت اور باہمی اشتراک سے یہ جنگ جیتی اس نے پاکستان اور اس کی افواج کو ساری دنیا میں سربلند کر دیا ہے۔ان کامیابیوں کا سہرا بلاشبہ فیلڈ مارشل جرنل عاصم منیر کی قیادت میں تمام مسلح افواج، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کے سر جاتا ہے۔
بھارت کی تنہائی، پاکستان کی اڑان اور اس کی دنیا میں ایک نئی شناخت نے ایک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جہاں پاکستان اس اڑان سے اقتصادی اور علاقائی کامیابیاں سمیٹنے جا رہا ہے کا وہاں کشمیر کے حل حوالے سے بھی کوئی سبیل نکلے گی؟ کیا کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ ختم ہوگا اور کیا اہل کشمیر کو بھی اس معرکہ حق کا کوئی ثمر ملے گا؟ قرائن کے مطابق امکان ہے کہ مسلئہ کشمیر کے حوالے سے بھی بھارت کو مزید دھچکے سہنے پڑ سکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کشمیر کا ذکر اسی طرف نشاندہی کر رہا ہے۔
معرکہ حق کا اس منتشر قوم کو یکجا کر دینا بھی ایک اہم کامیابی ہے۔یہی یکجہتی دشمن کے خلاف استعمال ہونے والا سب سے مؤثر ہتھیار ہے، جس کو ناکارہ کرنے کے لیے بیرونی اور اندرونی ملک دشمن عناصر سرگرم رہتے ہیں۔ معرکہ حق ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا، یہ وقت ہے ملی وحدت کی حفاظت کرنے کا۔ پاکستان نے ابھی زینہ بہ زینہ مزید عروج پاکر کامرانیوں کے نئے جہان مسخر کرنے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ہر فرد کو معرکہ حق کا سپاہی بن کر پاکستان کو باوقار، سربلند، خود مختار اور ناقابل تسخیر بنانا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













