بنگلہ دیش کے وزیراعظم اور بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے اپنی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے انتخابی منشور پر عملدرآمد میں فعال کردار ادا کریں، کیوں کہ پارٹی تنظیم کے تعاون کے بغیر حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے یہ بات دارالحکومت ڈھاکہ میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے کہاکہ 12 فروری کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد پارٹی ایک نئی جدوجہد کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، ہماری پہلی جنگ ختم ہو چکی ہے، لیکن اب ایک اور جنگ شروع ہوئی ہے جس میں عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے انتخابی مہم کے دوران کارکنوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں محنت کی اور بی این پی کے لیے عوامی حمایت حاصل کی۔
انہوں نے کہاکہ اب یہ منشور صرف ایک جماعتی دستاویز نہیں رہا بلکہ حکومت بنانے کے بعد یہ بنگلہ دیش کے عوام کا منشور بن چکا ہے۔
ان کے مطابق 52 فیصد سے زیادہ ووٹرز نے اس منشور کی حمایت کی، اس لیے تمام وعدوں کی تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کرنا ضروری ہے۔
طارق رحمان نے اپنی حکومت کے گڈ گورننس، تعلیمی مواقع میں بہتری اور خواتین، بچوں سمیت شہریوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا۔
انہوں نے ماضی میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف بی این پی کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی ایک ایسا جمہوری ماحول چاہتی ہے جہاں خوف، جبری گمشدگیوں یا سیاسی تشدد کے بغیر آزادانہ طور پر اختلاف رائے کا اظہار ممکن ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ حکومت ریاستی سطح پر کام کر رہی ہے، لیکن اس کا سیاسی تعلق بی این پی سے ہی ہے، اور پارٹی کے تعاون کے بغیر کئی معاملات میں حکومت کی کامیابی ممکن نہیں۔
یہ اجلاس فروری میں ہونے والے 13ویں پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیراعظم طارق رحمان اور نچلی سطح کے پارٹی رہنماؤں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔














