انٹارکٹیکا کے جنوب میں سمندری برف کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، جس نے ماہرینِ موسمیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک نسبتاً مستحکم رہنے کے بعد اب اس خطے کی برف میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:انٹارکٹیکا میں 30 سال میں لاس اینجلس کے رقبے سے 10 گنا زیادہ برف پگھل گئی، تحقیق
2023 میں موسمِ سرما کے دوران سمندری برف کی سطح تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جسے سائنسدان ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کے امکانات قدرتی طور پر انتہائی کم تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمی تبدیلیاں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور اوزون تہہ میں تبدیلیوں کے باعث تیز ہواؤں نے سمندر کی گہری تہوں سے گرم اور نمکین پانی کو سطح کی جانب دھکیل دیا ہے، جو برف کے پگھلنے کے عمل کو مزید تیز کر رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک خود کو بڑھانے والے (self-reinforcing) نظام میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں برف کے پگھلنے سے پانی کی ساخت بدل رہی ہے اور مزید برف بننے کا عمل مشکل ہو رہا ہے۔
انٹارکٹیکا کا ماحولیاتی نظام، جو دنیا کے اہم ترین ایکو سسٹمز میں سے ایک ہے، اس تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق برف میں کمی پینگوئنز، وہیلز اور سیلز سمیت کئی سمندری جانداروں کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ تبدیلی فوڈ چین کی بنیاد سمجھے جانے والے کرِل اور الجی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:انٹارکٹیکا میں خون کے رنگ کی آبشار، سائنسدانوں نے وجہ بتادی
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو نہ صرف انٹارکٹیکا کا قدرتی توازن متاثر ہوگا بلکہ جنوبی سمندر کی وہ صلاحیت بھی کم ہو جائے گی جو اب تک زمین کے درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد دیتی رہی ہے۔














