قصہ میگناکارٹا کا !

اتوار 10 مئی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ 1993 تھا جب اپنے دور کے معروف قانون دان اسماعیل قریشی مرحوم نے ہم سے پوچھا

“آپ نے میگنا کارٹا دیکھا ہے ؟”

“ہم تو نام ہی پہلی بار سن رہے ہیں !”

“یہ انسانی تاریخ کی پہلی دستاویز ہے جس میں انسانوں کے حقوق پر بات کی گئی، یوں یہ جدید آئینی و قانونی نظام کی ماں ہے”

اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے چہرے پر متاثر شخص والے تاثرات بھی تخلیق فرما لئے تھے تاکہ وہ الفاظ سے مل کر ہمیں میگناکارٹا کی “عظمت” منتقل کرسکیں۔ اگر آپ نے ان کی کتاب قانون توہین رسالت پڑھی ہو تو اس میں بھی انہوں نے میگناکارٹا کا ذکر کر رکھا ہے، حالانکہ ان کی کتاب انسانی حقوق نہیں بلکہ قانون توہین رسالت پر ہے۔ لیکن جب انسان کسی چیز سے بہت متاثر ہو تو اس کے تذکرے کی کوئی نہ کوئی سبیل نکال ہی لیتا ہے۔

لیجئے ! صاحب ہم میگنا کارٹا نامی کسی نامعلوم دستاویز کے رعب میں تو آگئے اب بس اسے دیکھنے کی حسرت باقی تھی۔ یہ حسرت تمام کرنے کو ہم ایک بک سٹور پر گئے اور میگنا کارٹا طلب کرلیا۔ نام سن کر صاحب دکان نے ہمیں حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا

“کس موضوع پر ہے یہ بک ؟”

اب رعب جھاڑنے کی باری ہماری تھی، سو پورے اعتماد سے عرض کیا

“یہ انسانی تاریخ کی پہلی دستاویز ہے جس میں انسانوں کے حقوق پر بات کی گئی، یوں یہ جدید آئینی و قانونی نظام کی ماں ہے”

مگر ایک غلطی ہوگئی، ہم نے بس بات دہرا ئی، قریشی صاحب والے تاثرات چہرے پر سجانا بھول گئے تھے، سو دکاندار نے متاثر ہوئے بغیر بس اتنا ہی کہا کہ نہیں ہے یہ کتاب ان کے پاس۔ یقین جانئے اس دور میں ہم جتنے بھی بک سٹورز پر گئے، خالی ہاتھ ہی لوٹے۔ سو دو تین ماہرین قانون کی خدمت میں حاضر ہوگئے کہ ان کی لائبریری میں تو اس دستاویز کی زیارت نصیب ہوہی جائے گی، مگر ناں ! سو جلد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے میگناکارٹا عنقا جیسی کوئی چیز ہے، جس کا نام تو ہے، وجود نہیں۔ عنقا عربوں کے ہاں وہی ہے جو گورے کے ہاں ڈائناسور ہے۔ فرق بس پرند اور چرند کا ہے۔

پھر وہ وقت آیا جب یہ ملا بالآخر بل بورڈز سے آغاز کرکے اخبارات اور فلموں کے سب ٹائٹلز سے ہوتے ہوئے ایک روز انگریزی پڑھنے پر قدرت حاصل کر گیا۔ یوں پہلی بار ہماری انگریزی لٹریچر تک رسائی ہوگئی۔ سو ہم نے وہاں بھی سب سے پہلے میگنا کارٹا تلاش کیا، مگر میگنا کارٹا نہیں بلکہ اس کے حوالے سے ایک بحث مل گئی۔ جس کا لب و لہجہ ہمیں “سازشی نظریہ” لگا جس سے ہم بری طرح چڑتے ہیں سو پڑھے بغیر چھوڑ دیا۔ پھر ایک روز ہم نے کسی برطانوی ماہر قانون کا لیکچر یوٹیوب پر سنا جو تھا بھی میگنا کارٹا پر تو تو دنگ رہ گئے۔ اس لیکچر سے جو سوالات ذہن میں پیدا ہوئے اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں واضح ہوا کہ میگنا کارٹا بس ہمارے ہاں ہی رعب جھاڑنے والی دستاویز ہے ورنہ برطانیہ میں تو اس کا ذکر سنتے ہی گورے ماہرین قانون کی چہروں پر شرارتی سا تبسم پھیل جاتا ہے۔

قریشی صاحب نے 1993 میں ہمیں میگناکارٹا نامی جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا تھا، اس کی حقیقت بس اتنی سی ہے کہ 1215 والے نام نہاد میگنا کارٹا کا انسانی حقوق سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اور نہ ہی وہ کسی آئینی نظام کی اماں یا خالہ جان ہیں۔ بلکہ ہوا یہ تھا کہ برطانوی کنگ جان اور جاگیر داروں کے بیچ مچھلی کے شکار اور ٹیکس وغیرہ پر ایک کشمکش پیدا ہوگئی تھی جس کی مصالحت کے لئے کچھ پادری اور اشرافیہ کے لوگ بیچ میں پڑے۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ کو جاگیر داروں کے کچھ مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔

چنانچہ اس کا جو معاہدہ لکھا گیا اس کے بارے میں مشہور ہے کہ 63 دفعات پر مشتمل تھا، اور اسے میگناکارٹا کا نام دیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ لاطینی زبان میں لکھا گیا تھا، اور یہ وہ زمانہ (1215) تھا جب برطانیہ میں واجبی سا پڑھا لکھا بندہ بھی بس شاہی محل میں ہی پایا جاتا تھا، جو بالعموم پادری یا شاہی خاندان کے لوگ ہوا کرتے۔ خود برطانوی ماہرین کہتے ہیں کہ میگنا کارٹا کی بنیاد پر یہ کہنا کہ اس میں انسانوں کے حقوق پر بات کی گئی تھی، اس انپڑھ اور گنوار سماج کی نسبت سے کسی سنگین مذاق سے کم نہیں۔ وہ اس کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ حقوق کی بحث تعلیم اور شعور کا نتیجہ ہے، جبکہ 1215 کے برطانیہ میں تعلیم تھی ہی نہیں۔

اب سوال یہ آجاتا ہے کہ پھر میگنا کارٹا کا تنا چرچا کیسے ؟ تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب 17 ویں صدی کے آتے آتے برطانوی کچھ تلیم شلیم حاصل کرگئے تو پہلی بار اس بات سے آگاہ ہوئے کہ انسان محض رعایا نہیں ہوتے ان کے تو حقوق بھی ہوتے ہیں۔ اور اس راز تک یہ مسلم لٹریچر سے پہنچے تھے۔ یوں 17ویں صدی کے اوائل میں پہلی بار برطانوی بادشاہ چارلس اول کے سامنے یہ مطالبہ آیا

“ساڈا حق ایتھے رکھ !”

مگر زیادہ شدت کے ساتھ دو ہی مطالبات تھے۔ ایک یہ کہ بادشاہ ٹیکس لگانے میں من مانی نہیں کرسکتا، دوسرا یہ کہ بادشاہ کسی کو من چاہی سزا نہیں دے سکتا، کیسز عدالت میں چلیں اور عدالت فیصلے کرے۔ یہاں یہ بات بھی جان لیجئے کہ برطانوی پارلیمنٹ کا وجود بھی کسی عوامی حقوق وغیرہ کے لئے عمل میں نہیں آیا تھا۔ بلکہ اشرافیہ کے نمائندوں پر مشتمل اس “سلیکٹڈ” ادارے کے قیام کا مقصد فقط ٹیکس کی منظوری دینا تھا۔یوں اس ادارے کا کام بس اتنا سا تھا کہ بادشاہ خود ٹیکس لگانے کی بجائے اس ادارے کے کاندھے پر رکھ کر ٹیکس والی بندوق چلا لیا کرے۔ اور یہ وہی ایوان تھا جسے ہاؤس آف لارڈز کہتے ہیں۔ جس کے لگ بھگ 800 اراکین آج بھی سلیکٹڈ ہوتے ہیں۔ جن میں چرچ آف انگلینڈ کے 26 پادری بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ چرچ آف انگلینڈ کے متولی اس وقت بھی کنگ چالس ہی ہیں۔

چنانچہ 17 ویں صدی میں جب ملزم کی سزا اور ٹیکس پر بادشاہ کی من مانی کے خلاف آواز بلند ہوئی تو 1628ء وہ سال تھا جب برطانوی پارلیمنٹ نے سر ایڈورڈ کوک کی قیادت میں، پٹیشن آف رائٹ تیار کی۔ اس دستاویز میں میگنا کارٹا کا حوالہ دے کر بادشاہ کنگ چارلس اول کو مجبور کیا گیا کہ وہ بلاوجہ ٹیکس لگانے اور بغیر مقدمہ چلائے قید کرنے جیسے اقدامات سے باز رہے

یہی وہ واقعہ ہے جسے خود برطانوی ماہرین قانون میگناکارٹا کی “ری پیکجنگ” کہتے ہیں۔ اصل میگناکارٹا میں یہ شقیں تھیں ہی نہیں۔ یہ سر ایڈورڈ کی واردات تھی کہ میگنا کارٹا کی طرف یہ شقیں منسوب کردیں۔ سوال یہ ہے کہ سر ایڈورڈ اس واردات میں کامیاب کیسے ہوگئے ؟ ہوا یہ تھا کہ 1215 والا میگناکارٹا کنگ جان نے جاگیرداروں کے شدید دباؤ میں کیا تھا، اس کی منشاء اس میں شامل نہ تھی چنانچہ اس نے پوپ کو خط لکھ دیا کہ یہ معاہدہ ناجائز ہے کیونکہ اس سے زبردستی کروایا گیا ہے۔ سو پوپ نوسنٹ سوم نے اسے تین وجوہات بیان کرکے منسوخ کردیا

پہلی وجہ یہ کہ یہ معاہدہ ناجائز ہے کیونکہ یہ دباؤ اور خوف کے تحت کروایا گیا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ معاہدہ بادشاہ کے حقوق اور وقار کے خلاف ہے۔ اور تیسری یہ کہ یہ معاہدہ “ناپاک اور شرمناک” ہے ۔ چنانچہ وہ پہلا میگناکارٹا ٹھیک 10 ہفتے بعد منسوخ ہوگیا، جس سے خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اسی دوران کنگ جان مر گیا تو اس کے بیٹے کنگ ہنری سوم نے خانہ جنگی کے خاتمے کے لئے میگناکارٹا دوبارہ لاگو کردیا۔ اور اس کے بعد کے ہنگاموں میں اسے غائب ہی کردیا گیا۔ چنانچہ سرایڈورڈ اچھی طرح جانتے تھے کہ 1215 والے میگنا کارٹا کی جانب کچھ بھی منسوب کردو، چل جائے گا، کیونکہ موجود تو وہ ہے نہیں۔

اب ذرا میگناکارٹا کے حوالے سے ایک مضحکہ خیز صورتحال دیکھئے۔ جب ہمارے ہاں کوئی کہتا ہے کہ 1215 کا آئینی ڈائناسور یعنی میگنا کارٹا دساتیر کی ماں ہے، تو سامعین سب کے سب بکریوں کی طرح سر ہلانا شروع کردیتے ہیں، یہ کوئی نہیں پوچھتا

“اس ماں نے برطانیہ میں آئین نامی بچہ کیوں جنم نہیں دیا ؟”

کہا یہ جاتا ہے کہ برطانیہ میں غیر تحریری آئین ہے، اور فکری غلام اس خرافات کو یہ جانتے ہوئے بھی مان لیتے ہیں کہ دنیا بھر کے تحریری دساتیر کی شقوں کی تشریح کے لئے آئینی عدالتوں کا رخ کیا جاتا ہے جہاں آئینی ماہرین آئین کے متعلقہ آرٹیکل کے ایک حرف پر ہی بحث نہیں کرتے بلکہ کامے اور فل سٹاپ پر بھی بینچ سے غور استدعا کرتے ہی۔

سو جب تحریری آئین کی شقین بھی عدالتوں میں تشریح کے لئے زیر بحث آتی ہیں تو ایسے میں غیر تحریری آئین کا رسک کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بادشاہ اور عوام کی کشمکش میں برطانوی بادشاہت کی ایک مستقل جیت ہے کہ اس نے برطانیہ کو آئینی ملک نہیں بننے دیا۔ جانتے ہیں بادشاہ کو اس کا فائدہ کیا ہے ؟ برطانیہ کی ساری زمین اس وقت بھی برطانوی بادشاہ کی ملکیت ہے۔شہری اسے بطور ٹینٹ (ایک طرح کا کرادار) خریدتا ہے۔ شہری اسے خرید ہی نہیں بلکہ بیچ بھی سکتا ہے، تعمیرات بھی کرسکتا ہے، میراث میں بھی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر کسی دن اس شہری کو ملک بدر کردیا گیا، یا وہ دیوالیہ ہوگیا، کمپنی بنائی تھی وہ ڈوب گئی وغیرہ وغیرہ تو زمین واپس بادشاہ کو مل جائے گی۔

اسی طرح برطانیہ کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حتی کہ شہریت پانے والے غیر ملکی بھی کسی آئین شائین نہیں بلکہ سیدھا سیدھا بادشاہ سلامت سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ سو غیر تحریری آئین، اور یہ کہ برطانوی بادشاہ بس نمائشی ہے وغیرہ جیسے جملے ان ماڈرن لوگوں کا پھیلایا جھوٹ ہے جنہیں گورے کے کتے کو ٹامی کہنے کی خاندانی عادت ہے۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔

اگر برطانوی بادشاہ نمائشی ہے تو برطانوی وزیر اعظم ہر ہفتے شاہی محل کیا کرنے جاتا ہے ؟ وہ ایک ہفتے کی کارگزاری رپورٹ دینے جاتا ہے اور بادشاہ کو باقاعدہ بریف کرتا ہے۔ سو جو کشمکش 1215ء میں کنگ جان کے دور سے بادشاہ اور جاگیرداروں کے بیچ شروع ہوکر صدیوں بعد عوامی شکل بھی اختیار کر گئی تھی، وہ بدستور موجود ہے۔اس میں عوام کی کامیابی یہ ہے کہ ان کی منتخب کردہ حکومتیں چل رہی ہیں۔ اور بادشاہ کی کامیابی یہ ہے کہ برطانیہ کا ہر انچ اب بھی اس کی ملکیت ہے، اور ملک کو اس نے اب تک آئینی نہیں بننے دیا۔ سو جس دن بھی عوام نے جمہوری نظام کے خلاف بغاوت کی، بادشاہ سلامت سیاستدانوں کے پچھواڑے پر لات مار کر پبلک سے کہیں گے

“میں ہوں ناں !”

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp