سابق وزیر نورین عارف کے گھر سے اٹھنے والی چیخیں، دارالحکومت مظفرآباد کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ آج بھی بعض علاقوں میں جاگیردارانہ سوچ، غربت اور چائلڈ لیبر کا ایسا نظام موجود ہے جہاں غریب خاندانوں کی کم عمر بچیاں طاقتور گھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔
بانڈی کھٹانہ کی رہائشی زیتون بی بی نے پریس کلب مظفرآباد میں سائلین ڈیسک پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُنہوں نے اپنی ایک کم عمر بیٹی کو بھائی کی نوکری کے بدلے سابق وزیر نورین عارف کے گھر چھوڑا تھا، مگر بعد میں اُن کی بچیوں کو مختلف گھروں میں کام کے لیے بھیجا جاتا رہا۔
زیتون بی بی کے مطابق جب وہ اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی تھیں تو اُسے واپس بھیجنے سے انکار کر دیا گیا اور بعد ازاں اُس پر چوری کا الزام لگا دیا گیا۔
زیتون بی بی کا کہنا تھا کہ اُن کی بیٹی پر تشدد کیا گیا، جبکہ آج پولیس سے رہا ہونے والی تیسری بچی نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ اُس پر شدید جسمانی و ذہنی تشدد کیا گیا، اُس کے کپڑے پھاڑے گئے اور اُسے ٹھنڈے پانی میں کھڑا رکھا گیا۔
یہ معاملہ اُس وقت مزید نمایاں ہوا جب میڈیا میں خبریں سامنے آئیں اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف گھروں میں موجود تینوں بچیوں کو واپس لانا شروع کیا۔ تازہ پیش رفت میں نورین عارف کے گھر چوری کیس میں گرفتار کم عمر بچی کو بھی بے قصور قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔
ایس ایس پی ریاض مغل کے مطابق بچی کو مکمل تحقیقات کے بعد رہا کیا گیا، کیونکہ اُس کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی یا اُس کی والدہ سے کسی قسم کی کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سابق وزیر نورین عارف کے بیٹے راجہ فراز عارف نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔ اُن کے مطابق بچی کئی سالوں سے اُن کے گھر کام کر رہی تھی اور گھر میں چوری کے بعد اُس پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ صرف ایک چوری کیس نہیں، بلکہ ایک بڑے سماجی سوال کو جنم دیتا ہے۔ آخر کیوں آج بھی کم عمر بچیاں گھریلو ملازمت پر مجبور ہیں؟ اور اگر یہ بچیاں بے قصور تھیں تو اُنہیں تشدد، خوف اور الزامات کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں واقعی شفاف تحقیقات ہوں گی یا پھر ماضی کے کئی حساس کیسز کی طرح یہ معاملہ بھی وقت کے ساتھ دبا دیا جائے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














