اتوار 10 مئی کو امریکی ریاست الاسکا کے شہر اتکیاگوِک میں سورج رات ایک بج کر 48 منٹ پر غروب تو ہوا، تاہم دوبارہ صبح 2 بج کر 57 منٹ پر طلوع ہونے کے بعد اب اگست کے آغاز تک افق پر ہی چمکتا رہے گا۔
ماضی میں بیرو کے نام سے معروف شہر اتکیاگوِک امریکا کا سب سے شمالی شہر ہے، جہاں گرمیوں میں سورج مسلسل چمکتا رہتا ہے جبکہ سردیوں میں کئی ہفتوں تک اندھیرا چھایا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زیلینسکی نے الاسکا میں امریکی اجلاس کو پیوٹن کی ’ذاتی فتح‘ قرار دیدیا
بحیرۂ منجمد شمالی کے کنارے واقع اس شہر میں سال بھر دن اور رات کے دورانیے میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔
اس سال شہر میں 24 گھنٹے دن رہنے کا سلسلہ 2 اگست تک جاری رہے گا، جب سورج دوبارہ افق سے نیچے جائے گا۔
In the northernmost reaches of the globe, the concept of day and night operates on an entirely different scale. The city of Utqiagvik, Alaska, has just experienced its final sunset for the season, marking the beginning of an extraordinary astronomical event known as the Midnight… pic.twitter.com/2PndclFMGa
— Science & Astronomy (@sci_astronomy) May 11, 2026
تقریباً 5 ہزار آبادی والے اس شہر کے رہائشی ان موسمی شدتوں کے عادی ہیں، تاہم مسلسل دن کی روشنی کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں شدید گرمی بھی ہوگی۔
جولائی کو عام طور پر سال کا گرم ترین مہینہ سمجھا جاتا ہے لیکن تاریخی اعداد و شمار کے مطابق اس دوران اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت صرف 49 ڈگری فارن ہائیٹ رہتا ہے۔
کبھی کبھار مختصر گرم لہر کے دوران درجہ حرارت 70 ڈگری فارن ہائیٹ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی شہر الاسکا میں 10 افراد کو لے جانے والا طیارہ لاپتہ، تلاش جاری
اتنے شمالی علاقے میں گرمیوں کے دوران برفباری بھی غیر معمولی نہیں، گزشتہ سال جون میں 7 دن برف کے گالے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
2 اگست کو سورج غروب ہونے کے بعد بھی اتکیاگوِک فوری طور پر مکمل اندھیرے میں نہیں ڈوبے گا کیونکہ سورج افق کے قریب رہے گا اور فضا میں روشنی برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ حقیقی رات کی تاریکی 21 ستمبر تک واپس نہیں آئے گی۔













