حکومت پاکستان نے نئی جامعات کے قیام سے متعلق معیار کو جدید بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں نئی وفاقی اور صوبائی جامعات کے قیام اور یونیورسٹی چارٹرز سے متعلق مجوزہ بلوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جامعات کے قیام کے لیے 2002 میں مقرر کیے گئے معیار اب فرسودہ ہو چکے ہیں اور موجودہ تعلیمی، تحقیقی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں رہے۔
نائب وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے تاکہ نئی جامعات بین الاقوامی معیار کی معیاری تعلیم اور تحقیقی معیار پر پورا اتر سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن یکم جون 2026 تک جامعات کے قیام کے لیے نئے معیار مرتب کرے گا، جبکہ زیر التوا تمام کیسز کا جائزہ نئے فریم ورک کے تحت لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران جامعات کی کارکردگی، تدریسی شعبہ جات، عالمی درجہ بندی اور بین الاقوامی سطح پر طلب رکھنے والے مضامین کو ترجیح دینے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو روزگار، جدت اور تحقیق کے شعبوں میں مؤثر نتائج دے اور طلبہ کو ملکی و عالمی مواقع کے لیے تیار کرے۔
اجلاس میں بین الصوبائی رابطہ کے وزیر رانا ثنااللہ، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری تعلیم، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکٹر اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔














