وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئندہ کے لیے آئی پی پیز کو دفن کردیا گیا ہے، اور اب بجلی اتنی سستی کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کرکے رات کو استعمال کرسکیں گے۔
لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ پاور کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے۔
اویس لغاری کے مطابق حکومت سبسڈی کے نظام میں بہتری لا رہی ہے اور نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خراب میٹرز کے باعث بلنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر طویل عرصے تک فعال نہ رہے تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے اور توانائی کے شعبے میں حکومتی کردار کو کم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ ایک سے 2 سال میں کئی توانائی کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے الگ نرخ مقرر کیے جائیں گے جبکہ دن کے اوقات میں مخصوص کیٹیگریز کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کا ہدف بجلی کو اس حد تک سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے کہ صارفین اسے ذخیرہ کرکے بعد میں استعمال کر سکیں۔
انہوں نے کہاکہ میٹرز کی خریداری میں نمایاں بچت کی گئی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں مہنگی بجلی کے باعث جہاں گھریلو صارفین مشکلات کا شکار ہیں وہیں کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ اتنی مہنگی بجلی کے باعث صنعتیں چلانا ممکن نہیں رہا، اور حکومت سے بجلی سستی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔














