معاہدے تک ایران پر دباؤ برقرار رہے گا، ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی بحالی پر غور کررہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ابھی تک ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی مکمل بحالی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اس منصوبے کی وسیع پیمانے پر بحالی پر غور کررہا ہوں۔ یقین ہے کہ ایران ہتھیار ڈال دے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائےگا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے امریکی امن تجاویز کا ایرانی جواب ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیدیا

امریکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیاکہ اب ’پروجیکٹ فریڈم‘ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے ساتھ سیکیورٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا، اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں، کیونکہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’احمقانہ اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی معاہدہ انتہائی کمزور حالت میں ہے اور زندگی کے آخری مرحلے پر ہے، جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے صورتحال کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر بتائے کہ کسی مریض کے زندہ رہنے کے امکانات نہایت کم رہ گئے ہوں۔

امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں کسی بھی وقت تبدیلی ممکن ہے۔

انہوں نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی واضح ضمانت موجود نہیں، اسی وجہ سے یہ منصوبہ قابلِ قبول نہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں اور معاملہ اب بھی کشیدہ حالت میں ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی پیش کردہ تجویز پر دیے گئے جواب کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی منصوبے کے جواب میں ایک متبادل تجویز پیش کی ہے، جس میں جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیج سکتے ہیں، امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کردیا

گزشتہ روز انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران 47 سال سے دنیا کے ساتھ کھیل کھیلتا رہا، لیکن اب وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت: نرس کی مبینہ غفلت کے باعث غلط انجیکشن لگنے سے مریض جان کی بازی ہار گیا

سعودی عرب: روشنیوں اور فنِ تعمیر کا امتزاج، کنگ عبدالعزیز اسکوائر نے شہر کی شناخت بدل دی

عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

جنگ بندی معاہدہ آج طے پانے کا امکان، ٹرمپ پُرامید، تہران نے فوری دستخط کی تردید کردی

فیفا ورلڈ کپ: آخری لمحات میں قطر کی واپسی، سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ برابر

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں