امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ چین اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے منتظر اور پر امید ہیں کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے لیے ’بڑی کامیابیوں‘ کا باعث بنیں گے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ چین کے دورے کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔
انہوں نے چین کو شاندار ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ ایک ایسے رہنما ہیں جنہیں دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران معاہدے میں چین کی انٹری، بڑی ہلچل
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ اپنے دورۂ چین کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
’یہ ایک عظیم ملک ہے اور صدر شی جن پنگ ایک قابلِ احترام رہنما ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے بڑی کامیابیاں سامنے آئیں گی۔‘
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اس دورے میں ٹرمپ کے ہمراہ امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی، مالیاتی، دفاعی، ہوابازی، مینوفیکچرنگ اور ادائیگیوں سے متعلق کمپنیوں کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 11, 2026
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اب امریکا چین کے ساتھ تجارت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کو چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں نقصان اٹھانا پڑتا تھا، تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔
چین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ صدر شی جن پنگ کی دعوت پر ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟
دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، ایران، ٹیرف، تائیوان، مصنوعی ذہانت اور اہم معدنیات سمیت کئی اہم عالمی امور پر بات چیت متوقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے، معاشی و قومی سلامتی کے مفادات کو مضبوط کرنے اور ممکنہ طور پر یو ایس-چائنا بورڈ آف ٹریڈ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے قیام پر بھی غور کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ہوابازی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
مزید پڑھیں: اینویڈیا کے جدید ترین چپس امریکا سے چین اسمگل کیسے ہوئے؟ پہلی بار تفصیلات سامنے آگئیں
دورے کے شیڈول کے مطابق جمعرات کو ٹرمپ کا سرکاری استقبال کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی شی جن پنگ سے ملاقات ہوگی۔
بعد ازاں وہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ کریں گے جبکہ شام کو سرکاری عشائیہ دیا جائے گا۔
جمعے کے روز دونوں رہنما چائے پر ملاقات اور ورکنگ لنچ میں شریک ہوں گے، جس کے بعد ٹرمپ واشنگٹن واپس روانہ ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ایران، امریکا مذاکرات بذریعہ پاکستان بدستورجاری، کیا صدر ٹرمپ دورہ چین کے موقع پر پاکستان آئیں گے؟
امریکی حکام نے بتایا کہ ایران بھی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگا، ٹرمپ چین اور ایران کے تعلقات، تیل کی تجارت اور روس و ایران سے متعلق دوہری استعمال کی برآمدات پر امریکی خدشات پر بات کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی اور گزشتہ برس اکتوبر میں طے پانے والی ایک سالہ تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر بھی بات چیت متوقع ہے، تاہم حکام کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔














