برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت اور شدید دباؤ کے باوجود واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی شکست کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ حکومت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوششوں کا نقصان ملک اور عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اس بیان کے باوجود برطانوی لیبر پارٹی کے اندر دباؤ برقرار ہے، جہاں ایک نائب وزیر نے استعفیٰ دے دیا جبکہ کئی معاونین بھی حکومتی ٹیم سے الگ ہو گئے۔
اب تک 80 سے زیادہ لیبر ارکانِ پارلیمنٹ مطالبہ کرچکے ہیں کہ وزیراعظم اپنی رخصتی کی تاریخ واضح کریں تاکہ منظم انداز میں نئی قیادت سامنے لائی جا سکے۔
اس سے قبل پیر کے روز کیئر اسٹارمر نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے زیادہ تیزی اور سخت فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی ناقص کارکردگی کے بعد کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد سینیئر وزرا بھی ان سے مستقبل کے بارے میں واضح حکمتِ عملی طلب کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لیبر پارٹی کے قریباً 80 ارکانِ پارلیمنٹ اور کابینہ کے اہم وزرا وزیراعظم سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اقتدار سے علیحدگی کے لیے ایک واضح تاریخ دیں تاکہ پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کا باقاعدہ عمل شروع کیا جا سکے۔
ان رہنماؤں میں وزیر داخلہ شبانہ محمود (برطانوی پاکستانی نژاد سیاست دان) اور وزیر خارجہ یویٹ کوپر سمیت کئی سینیئر کابینہ اراکین شامل ہیں، جنہوں نے کیئر اسٹارمر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باوقار انداز میں اپنے عہدے سے رخصتی کا ٹائم ٹیبل طے کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسل اور علاقائی انتخابات میں لیبر پارٹی کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں اسے 1400 سے زیادہ نشستیں ملیں مگر 30 کونسلز کا کنٹرول کھونا پڑا، جبکہ ویلز میں بھی پارٹی کو بڑی شکست کا سامنا ہوا۔
دوسری جانب سینیئر وزیر ڈیرن جونز کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کررہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کا ذاتی اختیار ہے۔














