ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک ناکارہ حصہ اس وقت چاند کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ 5 اگست 2026 کو چاند کی سطح سے ٹکرا جائے گا۔
پروجیکٹ پلوٹو کے ذریعے خلا میں موجود اجسام کی نگرانی کرنے والے ماہرِ فلکیات بل گرے کے مطابق یہ 450 ٹن وزنی دھاتی ٹکڑا تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلائی جہاز کی 14 سال بعد زمین پر واپسی، کیا لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟
5 منزلہ عمارت جتنا بڑا یہ خلائی کچرا گزشتہ ایک سال سے خلا میں غیر منظم طریقے سے گردش کررہا تھا، جسے زمین، چاند، سورج اور دیگر سیاروں کی کششِ ثقل اب اس کے آخری انجام کی طرف کھینچ رہی ہے۔
یہ راکٹ جنوری 2025 میں چاند پر لینڈرز لے جانے کے مشن پر روانہ ہوا تھا اور تب سے اس کا بالائی حصہ خلا میں بھٹک رہا تھا۔ بل گرے کا کہنا ہے کہ اگرچہ سورج کی شعاعیں ایسے اجسام پر تھوڑا اثر ڈالتی ہیں، لیکن ان کی حرکت کا اندازہ لگانا کافی حد تک ممکن ہوتا ہے، 5 اگست کو یہ راکٹ اور چاند اپنے مداروں کے اس مقام پر ہوں گے جہاں ان کا ٹکراؤ یقینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پُراسرار چیز جلتے ہوئے آسمان سے نیچے آگری، ویڈیو وائرل
اگرچہ زمین سے اس ٹکراؤ کا نظارہ کرنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم سائنسدانوں کو امید ہے کہ چاند کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیارے (سیٹلائٹس) اس ٹکراؤ کے نتیجے میں بننے والے نئے گڑھے کی تصاویر حاصل کر سکیں گے، جس سے انسانی ساختہ کچرے کے اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔














