ٹی 20 ورلڈ کپ سے دستبرداری پر بنگلہ دیش میں تحقیقات کا آغاز

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش حکومت نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے اپنی قومی کرکٹ ٹیم کی دستبرداری کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کس نے کیا؟ بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر نے بتا دیا

بنگلہ دیشی وزارت کھیل کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر اے کے ایم ولی اللہ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کن فیصلوں اور حالات کے باعث بنگلہ دیش ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت نہ کر سکی۔

کمیٹی میں چیف سلیکٹر حبیب الحق بشار اور سابق کرکٹر فیصل دستگیر بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 ورکنگ ڈیز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

بنگلہ دیش کو فروری میں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا تھا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بھارتی حکام کے درمیان میچوں کے مقامات کے معاملے پر طویل تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

یہ تنازع 3 جنوری کو اس وقت شروع ہوا جب بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 اسکواڈ سے الگ کر دیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی کا ازالہ کیا جائے، محسن نقوی نے آئی سی سی کے سامنے شرط رکھ دی

اس واقعے کے 24 گھنٹوں کے اندر اُس وقت کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کو آئی سی سی سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ اس کے ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کیے جائیں کیونکہ وہاں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔

انہوں نے سری لنکا کو متبادل میزبان کے طور پر تجویز کیا تھا۔

آصف نذرل نے کہا تھا کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارت میں محفوظ انداز میں کھیل نہیں سکتا تو قومی ٹیم سے بھی وہاں کھیلنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے میچز دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کی۔

تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت میں کسی قابل اعتماد سکیورٹی خطرے کے شواہد موجود نہیں، اس لیے میچز منتقل کرنے کا جواز نہیں بنتا۔

بعد میں آئی سی سی کا ایک وفد بنگلہ دیش پہنچا تاکہ معاملہ حل کیا جا سکے مگر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا

24 جنوری کو آئی سی سی بورڈ اجلاس کے بعد بنگلہ دیش کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جائے گا۔

بعد ازاں یہ تنازع اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب آصف نذرل نے کہا کہ وہ براہ راست ٹیم کی دستبرداری کے فیصلے کے ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ اس کی ذمہ داری کرکٹ حکام اور کھلاڑیوں پر عائد ہوتی ہے۔

نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیرِ کھیل امین الحق نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے اور اس پورے معاملے کی باضابطہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ سابق حکومت اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس صورتحال کو کیسے سنبھالا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے پر جیسن گلیسپی نے سوالات اٹھا دیے

کمیٹی کی رپورٹ رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے جس کے بعد بنگلہ دیش میں کھیلوں کی پالیسی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے حوالے سے مستقبل کے فیصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp