سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر قرار دی جانے والی انمول عرف ’پنکی‘ کے کیس میں سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
کمیٹی نے سیکریٹری داخلہ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی تفصیلات بغیر کسی استثنا کے پیش کی جائیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سرکاری ریکارڈ میں کسی بھی سیاستدان، جج، بیوروکریٹ یا طالب علم کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، تو ان کے نام ہر صورت منظرِ عام پر لائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوکین کوئین کی کہانی: دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
اجلاس کے دوران یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ اس کیس سے جڑے تمام متعلقہ افراد کے ڈرگ ٹیسٹ کروائے جائیں، جبکہ کمیٹی کے ایک رکن نے شفافیت اور خود احتسابی کی مثال قائم کرنے کے لیے خود کو سب سے پہلے ٹیسٹ کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا۔
کمیٹی نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ پنکی کے سپلائی چین اور تقسیم کے مکمل نظام کی رپورٹ فراہم کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ منشیات کن مقامات پر اور کن افراد کو فراہم کی جارہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی چلتی پھرتی کوکین لیب: پنکی کوئین انمول کی کہانی
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے اس وسیع نیٹ ورک کی بیخ کنی کے لیے کسی بھی بااثر شخصیت یا عہدے کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے اجلاس میں تمام تر دستاویزی ثبوتوں اور آپریشنل ریکارڈ کے ساتھ تفصیلی بریفنگ دیں تاکہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
ارکان نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی کہ ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے ناسور کو روکنے کے لیے اب “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی قسم کا سیاسی یا سماجی دباؤ اس تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔













