فلسطین پر پاکستان کا اصولی مؤقف اور ابھرتا ہوا سفارتی کردار

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کا فلسطین کے مسئلے پر مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انصاف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان مسلسل ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی متوازن اور اصولی سفارتکاری نے اسے امن، تحمل اور منصفانہ حل کی حمایت کرنے والے ایک ذمہ دار علاقائی کردار کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جنوری 2025 تا حال: ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید، یونیسیف

پاکستان کا فلسطین کے مسئلے پر مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انصاف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مضبوطی سے قائم رہا ہے۔ پاکستان نے مسلسل فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کی ہے اور ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا ہے، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

یہ اصولی مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس تسلسل کی عکاسی کرتا ہے جو وقتی جغرافیائی یا سیاسی دباؤ کے بجائے قانونی جواز، اخلاقی اصولوں اور عالمی ضمیر کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

مختلف حکومتوں نے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور غیر قانونی قبضے، آبادکاریوں کی توسیع اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مخالفت جاری رکھی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور تنظیمِ تعاونِ اسلامی سمیت مختلف عالمی فورمز پر مسلسل فلسطینی مؤقف کی وکالت کی ہے، جہاں اس نے احتساب، پرامن حل اور بین الاقوامی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری علاقائی کشیدگی نے اس بات کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے کہ ریاستیں متوازن اور اصولی سفارتی مؤقف اپنائیں۔ موجودہ بحران کے دوران پاکستان کے طرزِ عمل نے اسے ایک ذمہ دار علاقائی کردار کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے جو تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کو فروغ دیتا ہے۔

پاکستان نے تصادم یا بلاک سیاست کے بجائے کشیدگی میں کمی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ اس محتاط اور متوازن رویے نے پاکستان کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور مختلف علاقائی بحرانوں میں اس کی پالیسی کے تسلسل کو واضح کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کا علما کانفرنس سے خطاب، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ

موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں نے مسلم امہ کے اندر بھی اس کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ امن کے خواہاں کئی مسلم ممالک ایک ایسے متوازن رہنما کی تلاش میں ہیں جو امن کے فروغ کے ساتھ ساتھ جائز حقوق کا تحفظ بھی کر سکے، اور اس تناظر میں پاکستان ایک معتبر اور مؤثر آواز کے طور پر ابھرا ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اس کا یہ کردار ایک بالغ اور ذمہ دار ریاست کی عکاسی کرتا ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنجیدہ ہے۔

پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی اثر اسے فلسطین کے مسئلے پر مؤثر مؤقف اپنانے کا مزید اخلاقی اور سیاسی موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی ساکھ اس کے پرامن طریقہ کار، سفارتکاری اور بین الاقوامی قانون پر انحصار سے مضبوط ہوئی ہے۔

پاکستان اپنے بہتر ہوتے ہوئے سفارتی کردار کو استعمال کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کو متحرک کرنے، مسلم دنیا میں فلسطین کے حوالے سے اتحاد کو مضبوط کرنے اور ایک منصفانہ و دیرپا حل کی طرف پیش رفت کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، جو فلسطینی عوام کے حقوق، وقار اور سلامتی کو یقینی بنائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وائب کوڈنگ سے اے آئی ایجنٹس تک: پاکستان میں مصنوعی ذہانت نوجوانوں کے لیے کیسے نئے مواقع پیدا کررہی ہے؟

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے