الارم گھڑی سے پہلے لوگ کیسے جاگتے تھے: کھڑکیاں کھٹکھٹانے والے ’نوکر اپرز‘ سے سحری میں جگانے والوں تک

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پرانے وقتوں میں لوگ وقت پر جاگنے کے لیے مختلف انوکھے اور دلچسپ طریقے استعمال کرتے تھے۔ اس وقت جدید الارم گھڑیاں موجود نہیں تھیں اور اگر تھیں بھی تو وہ عام لوگوں کے لیے بہت مہنگی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیاروں کے زندہ دفن ہوجانے کا خوف، انسانوں کی عجیب و غریب احتیاطی تدابیر

صنعتی برطانیہ میں نوکر اپرز جو صبح سویرے لوگوں کو جگانے کے لیے کھڑکیوں پر دستک دیتے، کھڑکی کے شیشوں پر مٹر کے دانے پھینکتے یا لمبی چھڑیوں سے کھڑکیاں ٹھوک کر کام کرتے تھے۔ وہ لوگ ایک انسانی الارم کا کردار ادا کرتے تھے۔ وہ اکثر صبح 2 سے 4 بجے کے درمیان کام شروع کرتے اور تب تک آگے نہیں بڑھتے جب تک یقین نہ ہو جائے کہ گاہک جاگ گیا ہے۔

وہ پیشہ مزدور طبقے کی ضرورت اور فیکٹری کے سخت اوقات کار کی وجہ سے ابھرا اور بعد میں سستی اور قابل اعتماد الارم گھڑیاں عام ہونے پر ختم ہو گیا۔

پاکستان میں بھی اس انسانی الارم کی روایت آج کے دور میں رمضان کے دوران نظر آتی ہے۔ گلیوں میں لوگ سحری کے وقت طبل، ڈھول یا دیگر آلات کے ذریعے محلے کے باشندوں کو جگاتے ہیں۔ یہ افراد عموماً رضاکارانہ طور پر اس کام کو عبادت اور خدمت کے جذبے سے کرتے ہیں لیکن بعض اوقات محلے کے لوگ انہیں چھوٹے چندے دے کر حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

بالکل نوکر اپرز کی طرح یہ لوگ بھی لوگوں کی زندگیوں میں نظم اور وقت کی پابندی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں فرق صرف مقصد اور وقت کا ہے یعنی ایک معاشی اور صنعتی ضرورت اور دوسرا مذہبی اور سماجی روایت۔

مزید پڑھیے: الارم لگا کر بھی صبح جلد اٹھنا مشکل ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

برطانیہ کے صنعتی انقلاب کے دور میں فیکٹریوں کو وقت کی پابندی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ چند منٹ کی تاخیر بھی پورے کام کو متاثر کر سکتی تھی۔ اس زمانے میں ایک منفرد پیشہ وجود میں آیا جسے ’نوکر اپرز‘ کہا جاتا تھا۔

چلتی پھرتی الارم سروس

نوکر اپرز دراصل صنعتی انقلاب کے دور کی ایک دلچسپ انسانی ’الارم سروس‘ تھے جو خاص طور پر 19ویں صدی میں برطانیہ کے صنعتی شہروں میں عام ہوئے۔ یہ پیشہ اس وقت وجود میں آیا جب فیکٹریوں کے سخت اوقات کار کی وجہ سے لوگوں کے لیے وقت پر جاگنا انتہائی ضروری تھا لیکن عام مزدوروں کے لیے مہنگی الارم گھڑیاں دستیاب نہیں تھیں۔

یہ لوگ رات کے آخری پہر یا صبح سویرے اپنے مقررہ علاقوں میں نکل آتے تھے اور ہر گھر کے باہر جا کر مخصوص وقت پر لوگوں کو جگاتے تھے۔ وہ اس کام کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے تھے۔ کچھ نوکر اپرز لمبی لکڑی یا بانس کی چھڑی سے کھڑکیوں پر ہلکی دستک دیتے تاکہ اوپر کی منزل تک بھی آواز پہنچ سکے جبکہ کچھ لوگ مٹر یا چھوٹے کنکر کھڑکی پر پھینک کر لوگوں کو جگاتے تھے۔ بعض اوقات وہ دروازوں یا کھڑکیوں پر مسلسل دستک دیتے رہتے جب تک اندر سے جواب نہ آ جاتا۔

مزید پڑھیں: بخار دشمن نہیں الارم، اس کو ’بجتے‘ ہی ’بند‘ نہ کریں

ان کا کام صرف دستک دینے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اکثر باقاعدہ شیڈول کے مطابق کام کرتے تھے اور ہر گاہک کے لیے مخصوص وقت مقرر ہوتا تھا۔ وہ بعض اوقات صبح 2 سے 4 بجے کے درمیان اپنے کام کا آغاز کرتے اور تب تک آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ متعلقہ شخص جاگ چکا ہے۔ صنعتی شہروں جیسے لندن، مانچسٹر اور لیڈز میں یہ پیشہ خاص طور پر عام تھا جہاں فیکٹریوں کے نظام نے وقت کی پابندی کو انتہائی اہم بنا دیا تھا۔

یہ 18ویں صدی کی اسپرنگ سے چلنے والی گھڑی تھی جس میں نہ صرف الارم کی آواز کا نظام موجود تھا بلکہ ایک ایسا میکانزم بھی تھا جو موم بتی کو روشن کرتا اور اسے خود بخود سیدھی کھڑی حالت میں لے آتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نہ صرف جگانے کا کام کرتے تھے بلکہ اپنے علاقوں میں رات کے اوقات میں سرگرم رہنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو بھی نوٹس کر لیتے تھے۔ وہ اپنی ان خدمات کا گھر والوں سے کچھ اجرت بھی وصول کیا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے سستی اور قابل اعتماد الارم گھڑیاں عام ہوئیں یہ پیشہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا اور 20ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں یعنی سنہ 1920 کے بعد یہ تقریباً ناپید ہو گیا۔

موم بتی کا جادو

تاریخ میں صرف یہی طریقہ نہیں تھا بلکہ مختلف تہذیبوں میں وقت بتانے اور جگانے کے لیے دلچسپ آلات بھی استعمال ہوتے تھے۔ قدیم چین میں ایسی موم بتیاں بنائی جاتی تھیں جن پر وقت کے نشان ہوتے تھے اور بعض اوقات ان سے دھات کی سوئیاں یا پن گرتی تھیں جو مخصوص وقت پر آواز پیدا کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: انسانوں کے صرف 5 نہیں 33 حواس، نئی تحقیق نے صدیوں پرانا تصور چیلنج کردیا

ان انسینس نامی گھڑیوں میں دھاگوں سے لٹکی ہوئی چھوٹی گیندیں ہوتی تھیں جو دھاگہ جلنے پر نیچے گر کر نیچے رکھے ہوئے دھاتی ٹرے میں گرنے سے ہلکی سی ٹن کی آواز پیدا کرتی تھیں۔

اسی طرح قدیم یونان میں پانی کی گھڑیاں (کلپسیدرا) استعمال ہوتی تھیں جن میں پانی کے دباؤ سے سیٹی یا گھنٹی بجتی تھی۔ بعد میں یورپ میں چرچ کی گھنٹیاں بھی روزمرہ زندگی اور جاگنے کے لیے اہم ذریعہ بن گئیں۔

قدیم معاشروں میں مرغ کی بانگ بھی صبح جاگنے کی ایک قدرتی ’الارم گھڑی‘ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ سورج کی روشنی اور قدرتی اوقات کے مطابق اپنی نیند اور جاگنے کا نظام رکھتے تھے۔

بعد میں 18ویں اور 19ویں صدی میں میکانیکی الارم گھڑیاں ایجاد ہوئیں لیکن وہ بھی عام لوگوں کے لیے مہنگی اور غیر مستحکم تھیں۔ اس لیے صنعتی شہروں میں نوکر اپرز کا پیشہ کافی عرصے تک قائم رہا جو بعد میں سنہ 1920 کی دہائی تک تقریباً ختم ہو گیا۔

اندرونی الارم اور فکس ٹائم پر جاگنا

مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ ایک قدرتی عمل بھی ہے جو انسان کو مطلوبہ وقت پر جگا ہی دیتا ہے۔ درحقیقت انسان کا جسم ایک قدرتی گھڑی کے ساتھ آتا ہے جسے سرکیڈین ردھم کہتے ہیں۔

یہ قدرتی سسٹم جسم کو بتاتا ہے کہ کب جاگنا ہے اور کب سونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ الارم کے بغیر بھی مقررہ وقت پر جاگ جاتے ہیں جیسے فجر کی نماز کے لیے یا آفس اور اسکول جانے کے لیے۔ مستقل معمولات اور عادات کے ذریعے یہ اندرونی الارم مضبوط ہوتا جاتا ہے اور جسم خود بخود وقت پر جاگنے لگتا ہے۔

عادت، عبادت اور سماجی نظم

اندرونی الارم صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی اور مذہبی عادات سے بھی جڑا ہے۔ رمضان میں سحری کے وقت لوگ بغیر کسی الارم کے جاگ جاتے ہیں کیونکہ یہ عادت صدیوں کی روایات اور مذہبی پابندیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی طرح فجر کی نماز یا روزانہ کے کاموں کے لیے مقررہ وقت پر جاگنا بھی ایک خودکار عمل بن گیا ہے جو انسانی زندگی میں نظم اور وقت کی پابندی کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔

ماہرین کے مطابق پرانے دور کے لوگوں کی نیند کا نظام آج کے مقابلے میں زیادہ قدرتی تھا کیونکہ وہ زیادہ وقت دن کی روشنی میں گزارتے تھے۔ آج کی مصنوعی روشنی اور غیر منظم اوقات نیند کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لوگوں کے نام دماغ سے جلدی نکل جاتے ہیں تو یہ آسان ورزش کرلیں

یہ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ باقاعدہ نیند اور صحت مند معمولات ہمیشہ سے انسانی صحت کے لیے اہم رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp