ٹھیک ایک برس قبل آج کے روز انڈیا میں ایک ایسی صبح طلوع ہوئی تھی، جب بچے اسکولوں اور لوگ کاموں کے لیے نہیں نکلے۔ اس صبح اگر کچھ نکلا تو بس دم تھا جو ہر انڈین کا نکلا جا رہا تھا۔ وہ صبح ایک ایسی رات کے بعد طلوع ہوئی تھی جس کی تاریکی انڈین سازشی اعمال نامے سے پھر بھی کم ہی تھی۔ اس رات تک پہنچنے کے لیے انڈیا نے پہلگام والے شوشے سے دو ہفتے کا سفر کیا تھا۔ وہ سفر جس میں پہلے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ یوں انڈین میڈیا گویا 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے بہت پہلے ہی حالت جنگ میں آچکا تھا۔ قابل غور بات یہ تھی کہ انڈیا واضح طور پر جنگ مسلط کرنے کی تیاری کر رہا تھا، مگر امریکا سمیت پوری بااثر دنیا کو اسے روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اور یہ خاموشی انڈیا کے لیے تائیدی اشارہ تھی۔
سو 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستان میں بعض سویلین مقامات کو میزائل حملوں کا نشانہ ڈالا۔ پہلے سے اشارے کے منتظر انڈین میڈیا نے توڑ تاڑ کر گھونگروؤں کے انبار لگا لیے، اور یہ سب انڈین حملے کے بعد کے ایک گھنٹے میں ہوا۔ اس پہلے گھنٹے کے بعد جب پاکستان کی جانب سے رپورٹس آنی شروع ہوئیں تو انڈین ہی نہیں عالمی میڈیا کے لیے بھی اپنے کانوں پر یقین کرنا دشوار ہوگیا۔ انڈین میڈیا کی سرتوڑ کوشش کے باوجود خود انڈیا میں بے یقینی ہر سو اس طرح پھیل گئی کہ صبح ہوئی تو لوگ ناشتہ، بچے اسکول، اور بڑے دفاتر بھول گئے۔
ایسے میں جب پاکستان کے ملٹری آفیشلز پریس بریفنگ کے لیے آئے تو ترجیح ہی غیر ملکی میڈیا کی موجودگی تھی۔ پریس بریفنگ واضح، مربوط اور مدلل تھی۔ سوال و جواب کا مرحلہ آیا تو جواب آئیں، بائیں، شائیں نہیں بلکہ ٹھوس اور واضح تھے۔ ایئروائس مارشل اورنگزیب کسی گگلی سے پریشان دکھے اور نہ ہی باؤنسر پر ڈک کی نوبت آئی۔ ہر گیند باؤنڈری کے باہر عالمی رائے عامہ میں جاجا گرتی رہی۔
اس کے برعکس انڈیا میں سکتہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ تو ایسے غائب تھے جیسے یہ وزارتیں انڈیا میں پائی ہی نہ جاتی ہوں۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ میں تو جیسے میڈیا کو فیس کرنے کی ہمت ہی جواب دے گئی تھی۔ اور تاخیر کا یہ ہر منٹ پاکستان کے حق میں کریڈٹ ہوتا گیا۔ یوں جب 10 مئی کی شام آئی تو تب تک صورتحال اس قدر یکطرفہ ہوچکی تھی کہ پاکستان نے صرف عسکری ہی نہیں بلکہ انفارمشن اور ڈپلومیٹک وار میں بھی انڈیا کو چاروں شانے چت کردیا تھا۔
اگر آپ 10 مئی 2025 کے بعد کا ایک ماہ دیکھیں تو عالمی میڈیا میں یہ سولات زیر بحث ہی نہ تھےکہ کیا پاکستان نے واقعی طیارے کھوئے ہیں؟ کیا پاکستان کا واقعی بڑا جنگی نقصان ہوا ہے؟ پاکستان کے کتنے ایئربیس تباہ ہوئے؟ بلکہ پوری دنیا سے ہر طرح کے سوالات انڈین نقصانات کے حوالے سے ہی پوچھے جا رہے تھے۔ جہاں پاکستان کے حوالے سے یہ تک نہیں پوچھا جا رہا تھا ’کیا پاکستان کا کوئی ایک بھی طیارہ تباہ ہوا ہے ؟‘ وہاں انڈیا کے حوالے سے یہ سوال مسلسل زیر گردش رہا، ’انڈیا کے پانچ طیارے تباہ ہوئے یا سات ؟‘ انفارمشن کی اس جنگ میں انڈیا کے لیے صورتحال اس وقت مزید بدتر اور مضحکہ خیز ہوگئی جب انڈین ڈیفنس چیف نے صحافی کے جواب میں کہا:
’سوال یہ نہیں کہ طیارے تباہ ہوئے یا نہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟‘
ایک اور انڈین جنرل انہی دنوں بولے تو یہ شگوفہ چھوڑ دیا
’ہم اس جنگ سے سبق سیکھ رہے ہیں‘
انفارمیشن وار کے اس دور میں ایسی لوز بال؟ ارے بھئی یہی تو پاکستان کہہ رہا تھا کہ ہم نے انڈیا کو ایسا سبق سکھا دیا ہے کہ یہ بھولے گا نہیں۔ مگر انڈیا کی مشکل یہ ہے کہ اس نے 1999 کی کارگل جنگ میں سکھایا گیا سبق یاد کرکے 2019 میں پھر جنگی پنگا لیا تو پاکستان کسی نئے عسکری نصاب کا سبق اٹھا لایا، اور جب انڈین ملٹری نے بمشکل تمام 2019 والا سبق یاد کرکے 2025 میں آپریشن سندور لانچ کیا تو پاکستان ملٹی ڈومین وار فیئر جیسا بالکل ہی مادڑن نصاب سامنے لے آیا۔ یوں آج کل انڈین ملٹری پچھلے سال مئی میں سکھائے گئے سبق کے رٹے تو لگا رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کسی اگلی مڈ بھیڑ میں 7 مئی والے نصاب کے ساتھ سامنے آئے گا؟ ٹریک ریکارڈ تو کچھ اور ہی کہتا ہے۔ اور جو کہتا ہے، اس کے مطابق اگلی جھڑپ بھی انشااللہ ہندوتوا کے وردی والے مودیوں کے لیے ایک بالکل ہی نیا سبق ثابت ہوگی۔
مطلب کیا ہوا اس بات کا؟ یہی کہ انڈین ملٹری بیسویں صدی میں کھڑی ہے، اور جنگوں کا شوق یہ اس پاکستان ملٹری کے خلاف رکھتی ہے جو خود کو 21 ویں صدی کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے خود کو مسلسل اپ گریڈ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے 27 سالوں میں جتنی بار بھی دونوں ممالک کی افواج کا سامنا ہوا، ہر بار انڈین ملٹری سمجھ ہی نہ پائی کہ چل کیا رہا ہے؟ ہر بار ایک ماہ تک یہ سر کھجاتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج نے ان کے ساتھ کر کیا دیا ہے؟ یہی وہ چیز جسے ملٹری اصطلاح میں اپنے دشمن سے کئی قدم آگے رہنا کہتے ہیں۔ مثلاً یہی نکتہ دیکھ لیجیے کہ جب انڈین ایئرفورس نے اپنے رافیل کے جواب میں پاکستان ایئرفورس کو چائنیز جے 10 سی شامل کرتے دیکھا ہوگا تو اس کے سوا کچھ سوچا ہوگا ’یہ چائنا مال سے فرنچ رافیل کا مقابلہ کریں گے؟ ہاہاہا‘ ایمان سے بتائیے ان کے وہم و گمان میں بھی رہا ہوگا کہ یہی چائنا مال ان کے رافیل کو انڈیا کی ناک بنا کر کاٹ ڈالے گا؟
آپ ذرا حکمت عملی پر ہی غور کر لیجیے، کیا انڈین طیاروں نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی؟ نہیں کی۔ کیونکہ کارگل جنگ اور 2019 کی جھڑپ سے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہونا۔ مگر یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ پاکستان ایئرفورس ہی انڈیا میں داخل ہوجاتی۔ بالکل 2019 کی طرح جب پاک فضائیہ مقبوضہ کشمیر کے ’عسکری سیاحتی دورے‘ کے دوران ابھینندن کو بھی ساتھ کھینچ لائی تھی۔ چنانچہ اسی کا حل یہ رشین ایس 400 کی صورت کرکے اپنی طرف سے بالکل مطمئن بیٹھے تھے کہ اس بار پاک فضائیہ آئی تو بچ کر نہیں جائے گی۔ کیا ان کے پتا جی نے بھی سوچا تھا کہ اس بار پاک فضائیہ ماضی سے بھی زیادہ مہلک سبق سکھا دے گی؟ ان کا ایس 400 پاکستانی شاہینوں کے انتظار میں جمائیاں لے رہا تھا کہ اچانک اس پر یہ دیکھ کر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کہ فرنچ رافیل انڈین کوے بن کر کیوں ایک کے بعد ایک گر رہے ہیں؟ اور جب تک ایس 400 کو ہوش آتا، خود اس کا بھی کریا کرم ہوچکا تھا۔
آج ہم پچھلے مئی سے ایک سال کی مسافت پر کھڑے ہیں۔ ہمارا کہا انڈینز اور انڈینز کا کہا ہم مسترد کرسکتے ہیں۔ سو بیچ کی راہ اختیار کرکے یہ دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی ماہرین اس جنگ کے ممکنہ نتائج سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اگر یاد کیجیے تو اس محدود جنگ کے بعد جیو اسٹریٹیجی سے جڑے بین الاقوامی اداروں نے پہلا ہی بیانیہ یہ دیا تھا ’چائنیز ٹیکنالوجی نے مغربی ملٹری ٹیکنالوجی پر اپنی برتری ثابت کردی‘ اور یہ اس مؤقف کا ہی اثر ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران چائنیز ملٹری ایکسپورٹس میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لندن میں قائم آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق وہ چار روزہ جنگ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کی ناکامی کی ایک مزید تصدیق ثابت ہوئی۔ اسی طرح امریکی تھنک ٹینکس کہہ چکے کہ اس جنگ کے نتیجے میں فوکس انڈوپیسفک سے ایک بار پھر کشمیر کی طرف شفٹ ہوگیا ہے جس سے امریکا کا کواڈ والا پلان بری طرح فیل ہوگیا ہے۔
ایک بہت ہی اہم چیز سفارتی محاذ پر ملنے والی کامیابیاں ہیں جن کا دائرہ اثر اس لمحہ موجود میں بھی وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اگر یاد کیجیے تو 10 مئی 2025 کی فجر سے ہی پاکستان کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، پاک فضائیہ اور توپ خانہ انڈیا پر قہر بن کر ٹوٹ رہا تھا۔ خود انڈین میڈیا اعتراف کر رہا تھا کہ انڈین اسلحہ ڈپو، ایئربیسز، لوکل ملٹری ہیڈکوارٹرز ہی نہیں اڑائے جا رہے بلکہ پاکستان کی جانب سے سائبروار فیئر کی بھی بڑی یلغار کا انڈیا کو سامنا ہے۔ جس سے کمانڈ اینڈ کنٹرول کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ نے اچانک اعلان کیاکہ انہوں نے دونوں ممالک کے بیچ سیز فائر کروا دیا ہے۔ عقل کی معمولی سی مقدار رکھنے والا بھی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ سیز فائر کی خیرات کس نے مانگی ہوگی؟ مگر انڈیا کے لیے تو بحران کچھ اور کھڑا ہوگیا۔
انڈین خارجہ پالیسی کا تو ایک اہم ستون ہی یہ رہا تھا کہ وہ کہا کرتے، ہم پاک انڈیا معاملات میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کرتے۔ یوں ٹرمپ کے دعوے نے انڈین خارجہ پالیسی کی ناک کاٹ کر مودی کی ہتھیلی پر رکھدی کہ اس کی خارجہ پالیسی منافقت پر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی انکار کرکے پورا سال ٹرمپ کے ہاتھوں عالمی رسوائی کا سامنا کرتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مودی نے ٹرمپ کے کہنے پر سیز فائر نہیں کیا تھا تو پھر 10 مئی کو پورا دن پڑنے والی مار کا بدلہ کیوں نہ لیا؟ اس نے وہ ادھار کس خوشی میں بخش دیا؟
انڈین مؤقف کے عین برخلاف پاکستان نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کے کہنے پر انڈیا کی مزید ٹھکائی روکی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری پروفائل غیر معمولی وزن اختیار کرتی چلی گئی۔ اتنا وزن کہ آج پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ بھی رو بعمل ہے، اور پاکستان ایران و امریکا کے بیچ ثالث کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ کیا امریکا یا ایران میں سے کسی ایک نے ایک بار بھی کہاکہ ہم نے سیز فائر پاکستان کے کہنے پر نہیں کیا؟ مودی کے بالکل برعکس ایرانی اور امریکی قیادت پاکستان کے ثالثی والے کردار کو برملا سراہ رہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت تسلیم کرنے سے شان نہیں گھٹتی۔
لیکن اس تازہ صورتحال میں بھی مودی کا حال کیا ہے؟ مودی کو تو خود انڈین سیاستدان اور تجزیہ کار اس بات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ پاکستان علاقے کا سفارتی کنگ بنا ہوا ہے اور انڈیا تین میں ہے نہ تیرہ میں؟ اب ان کو کون سمجھائے کہ جب آپ پاکستان سے ملنے والی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل اور یو اے ای کے سہارے لیتے ہیں تو تنہائی ختم نہیں مزید بڑھتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













