وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ نیٹ ورک کے حوالے سے اعلیٰ پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے بھی انمول عرف پنکی کے مبینہ نیٹ ورک کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ملزمہ کے مبینہ شوہر اور سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کی ٹیم سابق پولیس افسر سے مقدمے اور مبینہ روابط کے حوالے سے پوچھ گچھ کرے گی، جبکہ لاہور میں درج مقدمے کے سلسلے میں انمول عرف پنکی کو کراچی سے لاہور منتقل کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کوکین کوئین انمول پنکی کی گرفتاری، ’یہ ایک دن جیو کے ساتھ شوٹنگ لگ رہی ہے‘
تحقیقاتی ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ کوٹ لکھپت میں درج مقدمے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو اشتہاری قرار نہیں دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گارڈن میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جبکہ گزشتہ روز اس کے بھائی کے خلاف لاہور میں درج مقدمے کی تفصیلات بھی سامنے آئی تھیں۔
لاہور پولیس کے مطابق 2022 میں شاداب کالونی کے علاقے میں ایک لگژری گاڑی سے منشیات کی ترسیل کے دوران ملزم ریاض بلوچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے وقت ریاض بلوچ کی بہن انمول عرف پنکی بھی گاڑی میں موجود تھی، تاہم وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے کراچی کی چلتی پھرتی کوکین لیب: پنکی کوئین انمول کی کہانی
پولیس ریکارڈ کے مطابق ریاض بلوچ کے خلاف 7 جنوری 2022 کو لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔













