لاہور ہائیکورٹ نے تھیٹروں اور ڈراما ہالز پر پیرافورس اور پولیس کے مبینہ چھاپوں کے خلاف دائر درخواست چیف پراسکیوٹر پیرافورس کے جواب کی روشنی میں نمٹا دی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پیرافورس نے کسی تھیٹر یا ڈراما ہال پر کوئی چھاپہ نہیں مارا اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی کا کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور کا واحد تھیٹر مرکز: 2دہائیوں بعد نشتر ہال کے دروازے کھل گئے
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس احمد ندیم ارشد نے صابر علی سمیت دیگر تھیٹر ٹھیکیداروں کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت پیرافورس کے چیف پراسکیوٹر پنجاب بیرسٹر مدثر اسحاق نے عدالت میں جواب جمع کرایا۔
چیف پراسکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون میں پیرافورس کے اختیارات واضح طور پر درج ہیں، تاہم کسی تھیٹر یا ڈراما ہال پر چھاپہ مارنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا جس کے تحت پیرافورس نے تھیٹروں کے خلاف کارروائی کی ہو۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے خود تھیٹروں اور ڈراما ہالز کے اوقاتِ کار رات 11 بجے سے ایک بجے تک مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مقامات صرف انہی 2 گھنٹوں میں بجلی اور دیگر وسائل استعمال کرتے ہیں۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کفایت شعاری مہم کے باوجود حکومت نے تھیٹروں اور ڈراما ہالز پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی، تاہم اس کے باوجود پولیس اور پیرافورس زبانی احکامات کے تحت چھاپے مار رہی ہیں اور تھیٹرز کو سیل کیا جا رہا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ پیرافورس اور پولیس کو تھیٹروں اور ڈراما ہالز پر چھاپوں اور سیل کرنے سے روکے اور ان کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔
عدالت نے پیرافورس کے جواب کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔














