پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مُلک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سب کو سیکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے گا۔ سیکیورٹی فورسز کا کردار بڑا اہم ہے اور آپ کو ہر وقت اپنی سیکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہ دن رات ہماری حفاظت کر رہے ہیں اور دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں۔ جہاں تک اُن دہشتگردوں کو فوجی آپریشنز میں ختم کرنے کی بات ہے وہ تو ہے ہی لیکن اُس کے ساتھ دہشتگردی کی وجوہات کا تدارک بھی ضروری ہے۔ دہشتگردی کی وجہ بننے والے اصل مسائل اور مطالبات ہیں اُن کو بھی پورا کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا نااہل ہو جائے گا، بیرسٹر علی ظفر
بیرسٹر ظفر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کنفیوژن کو بالکل دور کر دینا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف جو ممالک کامیاب ہوئے ہیں اُنہوں نے اُس کے خلاف ایک عوامی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ حکومت اور عوام ایک ہی پیج پر ہوں۔ آپ کا اتفاقِ رائے ہونا چاہیے کہ یہ دہشتگرد غلط ہے اور اِس کو اِس طریقے سے ختم کرنا چاہیے۔ چین نے بڑی کامیابی سے دہشتگردی کو ختم کیا ہے۔ وہاں اُنہوں نے طاقت کا استعمال بھی کیا اور عوام کو ساتھ لے کر بھی چلے۔ جو صحیح راستے پر نہیں آتا اُس کو تو ختم کرنے ہی پڑے گا۔ لیکن جو ہتھیار پھینک کر واپس آنا چاہے اُسے آپ واپس آنے دیں اور سیاست کرنے دیں۔
اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی یہ چاہے گا کہ دہشتگردی کو اِس ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے، پاکستان کا کوئی بھی ایسا شہری نہیں جو یہ کہے کہ دہشتگردی کو سپورٹ کرنا چاہیے بلکہ بہت سے تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ دہشتگردوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے ختم کر دیا جائے۔ لیکن دہشتگردی سے نمٹنا کس طرح سے ہے اُس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے اور ہر ایک کی رائے کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور پھر سب سے بہتر رائے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔
مجوزہ 28 ویں ترمیم اتنی جلدی نہیں آ سکتی لیکن ہو سکتا ہے میں غلط ثابت ہو جاؤں
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم میں عدالتی نظام کو تبدیل کیا جانا تھا،، لیکن 28 ویں ترمیم پر حکومت کی اتحادی جماعوں کو متفق ہونا ضروری ہے اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ یہ اتنی جلدی آ سکتی ہے لیکن ہو سکتا ہے میں غلط ثابت ہو جاؤں۔ اُنہوں نے کہا کہ 28 ترمیم کے بارے میں ابھی محض افواہیں ہی سُن رہے ہیں جن میں ایک تو قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق ترامیم لائے جانے کا اِمکان ہے، دوسرا بلدیاتی نظام، تیسرا نئے صوبے اور 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے خدوخال اگر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو میرا نہیں خیال کہ صوبے اِس سے متفق ہوں گے اور اُن کو ہونا بھی نہیں چاہیے۔
جہاں تک نئے صوبوں کی بات ہے تو اِس میں میرا مؤقف یہ ہے کہ نئے صوبے کسی لسانی اور علاقائی بنیادوں پر نہیں بننے چاہییں اور خالصتاً انتظامی بنیادوں پر بننے چاہییں۔ اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جو صوبہ بننے جا رہا ہے وہ مالیاتی اور انتظامی لحاظ سے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں اُس کے حق میں ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے صوبے ہونے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:18ویں ترمیم درست تھی مگر کچھ معاملات مرکز کے پاس رہنے چاہییں تھے، سینیٹر بیرسٹر سید علی ظفر
18ویں ترمیم میں اگر تبدیلیاں لائی جانی ہیں تو اُس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو وفاق کے زیرِ انتظام لایا جانا چاہیئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحت اور تعلیم کو وفاق کے زیرِ انتظام ہونا چاہیئے۔ صوبوں سے کچھ اختیارات اگر آپ چھین کر وفاق کے پاس لے کر آئیں گے تو اُس سے شکایات بڑھیں گی۔
عمران خان کو پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم سے استفادہ ملنا چاہیے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایک قانون دان کی حیثیت سے اگر آپ القادر ٹرسٹ کیس کو دیکھیں تو 100 فیصد اُس میں کوئی جان نہیں۔ وہ کیس بے بنیاد ہے اُسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم دورِ حکومت میں نیب قانون میں آنے والی ترمیم کہ کابینہ کے فیصلے عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتے، اِس ترمیم کی بنیاد پر ٹرائل عدالت میں بحث کی گئی تھی لیکن اُس عدالت نے اِسے نہیں مانا اور سزا دے دی گئی۔
لیکن ہائی کورٹ میں اس نقطے پر دوبارہ بحث ہو گی اور عمران خان کے خلاف اِس کیس کو اگر آبجیکٹولی بھی دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ اُن کی رہائی جلد ہو جائے گی۔










