بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت اضافی پیدا ہونے والی بجلی کو اب ’صفر یونٹ‘ تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشنز پر ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ بھی نافذ کردیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر دیا جانے والا ریلیف مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: پرانے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی، نیپرا کا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری
واضح رہے کہ پہلے سے موجود سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور ان کے لائسنس اپنی مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے۔ ایسے صارفین کو سابقہ معاہدوں کے طریقہ کار کے تحت ہی بلنگ کی جائے گی۔
نیپرا کے مطابق اگر کوئی موجودہ صارف اپنی سولر صلاحیت میں اضافہ یا تبدیلی کرتا ہے تو اسے پہلے والا نرخ نہیں ملے گا۔
اب زیادہ تر لوگ نیٹ میٹرنگ کروانے کے بجائے ہائبرڈ سسٹم کو ترجیح دے رہے ہیں، انجینیئر نور بادشاہ
کیا پاکستان میں سولر پینل کی تنصیب اب بھی صارفین کے لیے ایک پر کشش متبادل رہے گا؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انجینیئر نور بادشاہ نے کہاکہ حالیہ حکومتی پالیسیوں اور نیٹ میٹرنگ میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد صارفین کا رجحان تیزی سے آن گرڈ سسٹمز سے ہائبرڈ سسٹمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب زیادہ تر لوگ نیٹ میٹرنگ کروانے کے بجائے ہائبرڈ سسٹم کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی کو خود استعمال کر سکیں اور اضافی بجلی کو گرڈ میں دینے پر انحصار نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہاکہ نئی پالیسی کے تحت اضافی بجلی پر ریلیف ختم ہونے اور سخت چیکس کے نفاذ کے باعث صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی کشش کم ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین اب ایسے سسٹمز کی طرف جا رہے ہیں جن میں بیٹری بیک اپ شامل ہوتا ہے اور وہ لوڈشیڈنگ یا گرڈ کی عدم دستیابی کی صورت میں بھی بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔
انجینیئر نور بادشاہ کے مطابق ہائبرڈ سسٹم نہ صرف توانائی کے بہتر استعمال کو ممکن بناتا ہے بلکہ صارفین کو حکومتی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال سے بھی کسی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان میں سولر پینلز کی تنصیب اب بھی ایک پرکشش اور قابلِ عمل متبادل رہے گا، انجینیئر نور بادشاہ
انجینئر حمزہ رفیع، جو گزشتہ 7 برس سے سولر انڈسٹری سے وابستہ ہیں، کے مطابق حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے باوجود پاکستان میں سولر پینلز کی تنصیب اب بھی ایک پرکشش اور قابلِ عمل متبادل رہے گا، تاہم اس کا طریقہ کار ضرور تبدیل ہورہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی فروخت کرکے مالی فائدہ حاصل کرتے تھے، مگر اب نئی پابندیوں اور ریلیف میں کمی کے باعث اس ماڈل کی کشش کم ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غیر یقینی سپلائی کے تناظر میں سولر سسٹم کی اہمیت برقرار ہے۔
انجینیئر حمزہ رفیع کے مطابق اب مارکیٹ کا رجحان تیزی سے ہائبرڈ اور بیٹری بیسڈ سسٹمز کی طرف جا رہا ہے، جہاں صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی کو خود استعمال کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر یہ سرمایہ کاری اب بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ موجودہ حالات میں سولر انرجی صرف ایک متبادل نہیں بلکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک عملی ضرورت بنتی جا رہی ہے، البتہ صارفین کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط منصوبہ بندی اور درست سسٹم کے انتخاب کی ضرورت ہوگی۔
حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد سولر پینلز کی تنصیب کے رجحان میں وقتی کمی آئےگی، محمد گلباز
سولر انسٹالیشن مارکیٹ سے طویل عرصے سے وابستہ ماہر محمد گلباز کے مطابق حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد سولر پینلز کی تنصیب کے رجحان میں وقتی کمی ضرور آ سکتی ہے، تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صارفین مکمل طور پر اس سے دور ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹ میٹرنگ کے فوائد میں کمی آئی ہے، لیکن پاکستان میں بڑھتا ہوا توانائی بحران اب بھی لوگوں کو متبادل ذرائع اپنانے پر مجبور کررہا ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
محمد گلباز کے مطابق اب زیادہ تر گھروں میں الیکٹرک گیزر، الیکٹرک چولہے اور دیگر برقی آلات کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس کے باعث بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں صرف روایتی بجلی پر انحصار کرنا عام صارف کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ سولر صارفین کے لیے دھچکا کیوں؟
انہوں نے مزید کہاکہ انہی وجوہات کی بنا پر سولر انرجی اب بھی ایک فائدہ مند حل ہے، جو نہ صرف بجلی کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق مستقبل میں بھی سولر سسٹمز کی مانگ برقرار رہے گی، البتہ اس کا انداز اور ترجیحات ضرور تبدیل ہوں گی۔












