پولیس نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو ڈسٹرکٹ سینٹرل میں درج ایک اور مقدمے میں عدالت میں پیش کردیا، تفتیشی افسر کی عدالت سے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست پر عدالت نے سوال کیا کہ کس کا ریمانڈ چاہیے؟ کیا پہلے دس کیسز میں ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے؟
یہ بھی پڑھیں:’مجھے لاہور سے گرفتار کرکے یہاں لائے ہیں‘، انمول پنکی کی عدالت میں دہائی
خاتون پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کا دوسری عدالت سے دو روز کا جسمانی ہوچکا ہے، میں ایس آئی یو میں درج مقدمے میں تفتیشی افسر ہوں ، وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ جس کیس میں پنکی کو گرفتار کیا گیا اسی کیس میں پہلے سے گرفتار ملزم بری چکا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی ٹرانزیکشن ریکور کرلی گئی ہیں، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوچکی ہے، اسکا چھوٹا بھائی لاہور میں منیشیات سپلائی کا کام کرتا ہے۔

ملزمہ پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میرے گھر سے منیشات برآمدگی کی وہ 25 سال سے بند تھا، مجھے ڈرایا گیا ہے پوری فیملی کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی، کیا میں مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہوں گی یا چھاپے پر پریشان ہوں گی ،میرے دھول سے اٹے گھر سے منشیات کی چمکتی تجلیاں نکلیں ہیں جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان کے 800 سے زائد منشیات کے کیسز ہیں ،ان کا منشیات کے مقدمات کا فیملی بیک گراؤنڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوکین کوئین انمول پنکی نے اپنا ’جانشین‘ مقرر کردیا، کلائنٹس آگاہ کردیے گئے، آڈیو پیغام لیک
وکیل ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو دفعہ 512 میں مفرور قرار دیا گیا تھا، مفرور ملزم کا گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ نہیں ہوتا، لاہور سے گرفتار کر کے لائے ہیں ، قتل کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ ہوا تھا، نظر ثانی کی درخواست پر تین روز کا ریمانڈ ہوا تھا۔ پنکی کے جوتے گر گئے ہیں ، جوتے دلوائے جائیں، پاوں جل رہے ہیں، جس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ دھکوں میں ہمارے جوتے بھی گر چکے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب یہ کسی ریمانڈ پر ہیں؟ اگر مرکزی مقدمے میں ریمانڈ ہوا ہے تو مجھے اس عدالت کا فیصلہ لاکر دیں، میں خصوصی ڈیوٹی پر مجسٹریٹ ہوں، میرے پاس کیس کا ریکارڈ نہیں، وکیل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کیس میں جسمانی ریمانڈ ہوا تو آپ بھی ریمانڈ دیں گے؟ وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ میری موکلہ کے ساتھ بد تمیزی کر رہے ہیں۔
انمول پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میں میڈیا سے بات کرنا چاہتی ہوں ، عدالت نے کہا کہ آپ کو میڈیا سے بات کرنے نہیں دے سکتے۔














