کراچی کی مقامی عدالت نے بارش کے دوران بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آنے سے شہری کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک کو متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مقامات پر بجلی کے نظام کو محفوظ بنانا بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی بنیادی ذمے داری ہے اور اس معاملے میں غفلت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیپرا نے کے الیکٹرک پر کروڑوں روپے جرمانہ کیوں عائد کیا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیئر سول جج وسطی نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بجلی سے متعلق اداروں پر شہریوں کے تحفظ کی غیر معمولی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر بجلی کے کھمبے پر دیگر اداروں کی تاریں بھی موجود ہوں تب بھی کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام اور عوامی مقامات کو محفوظ بنانا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے، جبکہ کسی عوامی مقام پر نصب پول میں کرنٹ کا موجود ہونا بذاتِ خود غفلت کا ثبوت تصور کیا جائے گا۔

فاضل جج نے حکم دیا کہ کے الیکٹرک 90 روز کے اندر دعویٰ کنندگان کو مکمل ہرجانہ ادا کرے۔ فیصلے کو شہریوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں شہری شیخ سعد بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ مقدمے کے مطابق علاقہ مکینوں نے پہلے ہی بجلی کے پول میں کرنٹ ہونے کی شکایت کے الیکٹرک کو کی تھی، تاہم بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔













