روس کی جانب سے امریکا کے مالی تعاون سے چلنے والی خفیہ حیاتیاتی لیبارٹریوں سے متعلق الزامات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، خاص طور پر امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان کے بعد۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے خلیات سے چلنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کی ٹھان لی
تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی معاونت سے 30 ممالک میں 120 سے زائد بائیولوجیکل لیبارٹریاں قائم ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ یوکرین میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکی ادارے اب ان لیبارٹریوں، ان میں موجود جراثیم اور وہاں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطرناک ’گین آف فنکشن‘ ریسرچ کو روکا جا سکے۔
روس گزشتہ قریباً ایک دہائی سے امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب خفیہ حیاتیاتی تحقیق، ممکنہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور غیر قانونی تجربات میں ملوث ہے، تاہم امریکا اور مغربی ممالک ان دعوؤں کو مسلسل ’روسی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے رہے۔
یہ معاملہ پہلی بار 2017 میں اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فضائیہ نے روسی شہریوں کے جینیاتی نمونے حاصل کرنے کے لیے مشتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے حیاتیاتی نمونے منظم انداز میں جمع کیے جا رہے ہیں۔
2018 میں جارجیا کے سابق وزیرِ سلامتی ایگور گیورگادزے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی معاونت سے قائم رچرڈ لوگر سینٹر میں مشتبہ حیاتیاتی تجربات کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تحقیقات بھی کیں، تاہم امریکا اور جارجیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔
مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس نے یوکرین میں قائم مختلف لیبارٹریوں سے ہزاروں دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ امریکا عالمی حیاتیاتی تحفظ کے نام پر دوہرے استعمال کی تحقیق کر رہا تھا، جس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے اجزا بھی شامل تھے۔
امریکی اور یورپی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بارہا ’پروپیگنڈا‘، ’مضحکہ خیز‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا، تاہم تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے اس تنازع کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔














