سعودی عرب سے پاکستانیوں کے لیے اس سال قربانی کے کتنے جانوروں کا گوشت آئے گا؟

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حج کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں تاہم اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی قربانیوں کا گوشت اور کھالیں آخر کہاں جاتی ہیں اور ان کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے؟

مزید پڑھیں: اسلام آباد کی مویشی منڈیوں میں حالات کیسے ہیں؟

سعودی عرب میں حج قربانیوں کے انتظام کے لیے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے تحت ’اداحی پروجیکٹ‘ کام کرتا ہے جسے دنیا کے سب سے بڑے منظم قربانی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ جدید مذبح خانوں، کولڈ اسٹوریج، پیکنگ مراکز اور ترسیلی نظام کے ذریعے لاکھوں جانوروں کی قربانی کو منظم انداز میں مکمل کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صرف 2025 کے حج سیزن میں اداحی پروجیکٹ نے عیدالاضحیٰ کے پہلے دن 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد قربانیاں انجام دیں جبکہ مجموعی طور پر 8 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ جانور فروخت کیے گئے۔

سعودی حکام کے مطابق پورے حج سیزن میں 9 لاکھ 50 ہزار تک قربانیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی جبکہ بعض جدید مراکز 10 لاکھ سے زائد قربانیوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حج قربانیوں کا گوشت فوری طور پر جدید مشینری کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے پھر اس کا ایک حصہ سعودی عرب کے اندر مستحق افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ بڑی مقدار دنیا کے غریب اور متاثرہ ممالک کو بھجوائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق گوشت کی ترسیل ایشیا، افریقہ اور دیگر ضرورت مند علاقوں تک کی جاتی ہے تاکہ لاکھوں افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں حج کے دوران قربانیوں کے گوشت کے ضائع ہونے اور صفائی کے مسائل سامنے آتے تھے تاہم جدید نظام متعارف ہونے کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

اب ذبح سے لے کر پیکنگ اور ترسیل تک ہر مرحلہ کمپیوٹرائزڈ نگرانی میں مکمل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ہزاروں قصاب، ویٹرنری ڈاکٹر، ٹیکنیکل ماہرین اور مذہبی اسکالرز خدمات انجام دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  عید قربان پر سکردو کی مویشی منڈی میں یاک کی دھوم

قربانیوں کی کھالیں بھی ضائع نہیں کی جاتیں بلکہ انہیں چمڑے کی صنعت کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ان کھالوں سے حاصل ہونے والی آمدنی فلاحی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور دینی خدمات پر خرچ کی جاتی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق اداحی پروجیکٹ کا مقصد نہ صرف حجاج کرام کے لیے قربانی کے عمل کو آسان بنانا ہے بلکہ اس عبادت کے ذریعے دنیا بھر کے ضرورت مند مسلمانوں تک بھی فائدہ پہنچانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا