بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان کی سیاست میں ’سائفر‘ ایک ایسا موضوع بنا رہا جس پر طویل عرصے تک بحث جاری رہی۔ تحریک انصاف کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ انہیں ایک بیرونی سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا، جبکہ سیاسی مخالفین اور ناقدین اسے داخلی سیاسی بحران اور پارلیمانی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اب جبکہ مبینہ سائفر کی تفصیلات منظرِ عام پر آچکی ہیں، تو اس معاملے پر نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
سائفر میں کسی منظم یا عملی سازش کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ دستیاب متن سے یوکرین جنگ اور ماسکو دورے پر ناراضی اور تحفظات کا اظہار تو ظاہر ہوتا ہے، تاہم اس میں حکومت کی تبدیلی کے کسی منصوبے یا رجیم چینج کی سازش کا ذکر نہیں ملتا۔
دستاویز میں یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عمران خان کی پالیسیوں سے ناخوش تھا اور پاکستان میں جاری سیاسی بحران کو قریب سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت گرانے کا پورا عمل امریکا نے ترتیب دیا۔
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site. https://t.co/nlX8uZCQRX pic.twitter.com/SYskivzAK9
— Drop Site (@DropSiteNews) May 17, 2026
31 مارچ 2022 کے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اس مراسلے کو ’کھلی مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو ڈیمارش دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں 22 اپریل 2022 کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں، سابق سفیر اور سیکیورٹی اداروں کی بریفنگ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کسی منظم سازش کے شواہد موجود نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی کوئی بین الاقوامی سازش متحرک ہوتی تو اس کے واضح ثبوت، کردار، مالی معاونت، رابطوں اور پارلیمانی عمل کو متاثر کرنے کے شواہد سامنے آتے۔ لیکن سائفر میں ایسا کچھ موجود نہیں۔ اس کے برعکس عمران خان کی حکومت ایک آئینی اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ختم ہوئی۔
اپوزیشن نے حکومت کی ناقص کارکردگی کے خلاف 8 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، اتحادی جماعتیں حکومت سے الگ ہوئیں اور آخرکار 174 اراکین نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر ووٹنگ کا عمل بحال کیا۔
دستاویز میں موجود جملہ ’All will be forgiven‘ سیاسی طور پر ضرور اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے امریکی ناراضی اور دباؤ کا تاثر ملتا ہے، لیکن قانونی اور عملی طور پر یہ اس بات کا ثبوت نہیں بنتا کہ حکومت کو امریکا نے گرایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل فیصلہ کن عنصر پاکستان کی داخلی سیاسی گنتی تھی، کیونکہ کمزور اتحادی ڈھانچے اور محدود اکثریت کے باعث حکومت اپنی سیاسی حمایت برقرار نہ رکھ سکی۔
یہ نکتہ بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ بعد میں عمران خان نے خود بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ امریکا سے دشمنی نہیں چاہتے اور باوقار تعلقات کے حامی ہیں۔ سیاسی مخالفین اس تبدیلی کو اس بات کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ابتدائی ’رجیم چینج‘ بیانیہ سیاسی متحرک سازی کے لیے زیادہ مؤثر تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اسے سخت شواہد کے ساتھ برقرار نہیں رکھا جا سکا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ دراصل پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو شخصی سیاست کی نذر کرنے کی مثال بن گیا۔ ان کے مطابق ایک بالغ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو، ریاض یا تہران جیسے عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ اختلاف کے باوجود ریاستی تعلقات کو ذاتی بیانیے، جذباتی ردعمل یا سیاسی انا کا شکار نہ بننے دے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائفر شاید یہ ثابت نہ کرتا ہو کہ امریکا نے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس حد تک شخصی اور کشیدہ ہوچکے تھے کہ واشنگٹن عمران خان کو ایک مسئلے کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ ناقدین کے مطابق ایک وزیراعظم کا کردار احتجاجی سیاست یا ٹی وی مباحث تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ ریاستی مفادات کا نگہبان ہوتا ہے، جسے عالمی تعلقات میں جذبات کے بجائے تدبر، توازن اور سفارتی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔













