سائفر منظر عام پر، ’سازش‘ نہیں، عمران خان کی ناقص سیاست حکومت کو لے ڈوبی

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان کی سیاست میں ’سائفر‘ ایک ایسا موضوع بنا رہا جس پر  طویل عرصے تک بحث جاری رہی۔ تحریک انصاف کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ انہیں ایک بیرونی سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا، جبکہ سیاسی مخالفین اور ناقدین اسے داخلی سیاسی بحران اور پارلیمانی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اب جبکہ مبینہ سائفر کی تفصیلات منظرِ عام پر آچکی ہیں، تو اس معاملے پر نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

سائفر میں کسی منظم یا عملی سازش کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ دستیاب متن سے یوکرین جنگ اور ماسکو دورے پر ناراضی اور تحفظات کا اظہار تو ظاہر ہوتا ہے، تاہم اس میں حکومت کی تبدیلی کے کسی منصوبے یا رجیم چینج کی سازش کا ذکر نہیں ملتا۔

دستاویز میں یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عمران خان کی پالیسیوں سے ناخوش تھا اور پاکستان میں جاری سیاسی بحران کو قریب سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت گرانے کا پورا عمل امریکا نے ترتیب دیا۔

31 مارچ 2022 کے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اس مراسلے کو ’کھلی مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو ڈیمارش دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں 22 اپریل 2022 کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں، سابق سفیر اور سیکیورٹی اداروں کی بریفنگ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کسی منظم سازش کے شواہد موجود نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی کوئی بین الاقوامی سازش متحرک ہوتی تو اس کے واضح ثبوت، کردار، مالی معاونت، رابطوں اور پارلیمانی عمل کو متاثر کرنے کے شواہد سامنے آتے۔ لیکن سائفر میں ایسا کچھ موجود نہیں۔ اس کے برعکس عمران خان کی حکومت ایک آئینی اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ختم ہوئی۔

اپوزیشن نے حکومت کی ناقص کارکردگی کے خلاف 8 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، اتحادی جماعتیں حکومت سے الگ ہوئیں اور آخرکار 174 اراکین نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر ووٹنگ کا عمل بحال کیا۔

دستاویز میں موجود جملہ ’All will be forgiven‘ سیاسی طور پر ضرور اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے امریکی ناراضی اور دباؤ کا تاثر ملتا ہے، لیکن قانونی اور عملی طور پر یہ اس بات کا ثبوت نہیں بنتا کہ حکومت کو امریکا نے گرایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل فیصلہ کن عنصر پاکستان کی داخلی سیاسی گنتی تھی، کیونکہ کمزور اتحادی ڈھانچے اور محدود اکثریت کے باعث حکومت اپنی سیاسی حمایت برقرار نہ رکھ سکی۔

یہ نکتہ بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ بعد میں عمران خان نے خود بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ امریکا سے دشمنی نہیں چاہتے اور باوقار تعلقات کے حامی ہیں۔ سیاسی مخالفین اس تبدیلی کو اس بات کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ابتدائی ’رجیم چینج‘ بیانیہ سیاسی متحرک سازی کے لیے زیادہ مؤثر تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اسے سخت شواہد کے ساتھ برقرار نہیں رکھا جا سکا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ دراصل پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو شخصی سیاست کی نذر کرنے کی مثال بن گیا۔ ان کے مطابق ایک بالغ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو، ریاض یا تہران جیسے عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ اختلاف کے باوجود ریاستی تعلقات کو ذاتی بیانیے، جذباتی ردعمل یا سیاسی انا کا شکار نہ بننے دے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائفر شاید یہ ثابت نہ کرتا ہو کہ امریکا نے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس حد تک شخصی اور کشیدہ ہوچکے تھے کہ واشنگٹن عمران خان کو ایک مسئلے کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ ناقدین کے مطابق ایک وزیراعظم کا کردار احتجاجی سیاست یا ٹی وی مباحث تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ ریاستی مفادات کا نگہبان ہوتا ہے، جسے عالمی تعلقات میں جذبات کے بجائے تدبر، توازن اور سفارتی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: روشنیوں اور فنِ تعمیر کا امتزاج، کنگ عبدالعزیز اسکوائر نے شہر کی شناخت بدل دی

عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

جنگ بندی معاہدہ آج طے پانے کا امکان، ٹرمپ پُرامید، تہران نے فوری دستخط کی تردید کردی

فیفا ورلڈ کپ: آخری لمحات میں قطر کی واپسی، سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ برابر

بارش اور آندھی نے خیبرپختونخوا میں تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں