سپریم کورٹ نے 5 سالہ عمر راٹھور کے اغوا اور قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے 3 مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ استغاثہ نے حالات و واقعات کی کڑیوں سے جرم ثابت کیا، تاہم کیس میں موجود شک کی گنجائش سزائے موت برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے براہِ راست گواہی کے بجائے حالات و واقعات کی مسلسل کڑیوں کے ذریعے جرم ثابت کیا۔ تاہم عدالت کے مطابق کیس میں موجود باقی ماندہ شک سزائے موت ختم کرنے کی بنیاد بنا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ تینوں مجرمان مقتول بچے کے لواحقین کو 5، 5 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کریں گے۔
سپریم کورٹ نے شریک ملزم اسد ممتاز کی بریت کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیے آسٹریلیا: 4 بچوں کے قتل کے الزام میں 20 سال سے قید ماں کی سزا کیسے ختم ہوئی؟
تفصیلی فیصلے کے مطابق 5 سالہ عمر راٹھور کو 21 دسمبر 2019 کو تھانہ بہارہ کہو کی حدود سے اغوا کیا گیا تھا۔ مجرمان نے بچے کو تاوان کی غرض سے آفتاب ظفر کے کرائے کے مکان میں قید رکھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کی بڑھتی ہوئی تلاش اور بچے کے مسلسل رونے کی وجہ سے مجرمان نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بچے کی لاش 24 دسمبر 2019 کو ایک لکڑی کی الماری سے برآمد ہوئی تھی جبکہ اس کے ہاتھ پاؤں ٹیپ سے بندھے ہوئے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے جائے وقوعہ سے ملنے والے سگریٹ کے ٹکڑوں پر مجرمان کے ڈی این اے کی تصدیق کی، جبکہ نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی نے شیشے کی اشیاء پر حمزہ جہانگیر، آفتاب ظفر اور محمد یاسر کے انگلیوں کے نشانات بھی حاصل کیے۔
فیصلے کے مطابق مکان کی مالکن نے بھی گواہی دی کہ مکان کا نچلا حصہ مجرم آفتاب ظفر کو 12 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دیا گیا تھا، جہاں بچے کو رکھا گیا۔













