وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کر صوبے میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی معطلی پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی بندش کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: جائز مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کیا جائےگا، وفاقی وزیر خزانہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو یقین دہانی
وزیراعلیٰ کے مطابق خیبرپختونخوا قدرتی گیس پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے اور اسے اپنے آئینی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ صوبہ قریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اس کا استعمال صرف 120 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق سی این جی سیکٹر کو درکار 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کھاد کے شعبے کو منتقل کردی گئی ہے۔
خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی بندش سے صوبے میں بے چینی اور امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیاکہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو پہلے استعمال کا حق حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ پشاور ہائیکورٹ بھی سی این جی اسٹیشنز کی بندش کو غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے جبکہ اس فیصلے سے ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ان کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر بڑی حد تک سی این جی پر انحصار کرتا ہے اور گیس کی بحالی ناگزیر ہے، بصورت دیگر مہنگے ایندھن کے استعمال سے عوام پر اضافی بوجھ پڑےگا۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور سی این جی سیکٹر کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس بلانے اور اس مسئلے کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے، سہیل آفریدی
دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 151 کے تحت اشیائے خوردنی کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ خیبرپختونخوا کے غریب شہری پاکستان میں سب سے مہنگا آٹا خرید رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیاکہ صوبہ 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ اس کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب نے آٹے کی ترسیل روک کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے اور وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا بوجھ خیبرپختونخوا پر ڈالا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو پہلے اس کی ضرورت پوری کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے اور اگر مزید دباؤ ڈالا گیا تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔
سی این جی عام لوگ استعمال کرتے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی این جی امرا نہیں بلکہ عام شہری اور ٹیکسی ڈرائیور استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ تیل، گیس اور معدنیات پیدا کر رہا ہے، اس کے باوجود عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو وہ سڑکوں پر ضرور نکلیں گے۔
گورنر کے مطابق یہ صوبہ سب کا ہے اور اس کے لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب بڑا بھائی ہے لیکن شاید وہ بڑے بھائی کا کردار ادا نہیں کر رہا۔ اگر محرومیاں برقرار رہیں تو احتجاج سامنے آئے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی اسپیڈ کے لیے مشہور ہیں لیکن یہاں وہ رفتار نظر نہیں آ رہی۔
صوبہ سب کا ہے اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، اپوزیشن لیڈر
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا ہے کہ وفاق جہاں فیصلے کرتا ہے وہاں صوبے کی نمائندگی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ہنگامی صورتحال اور کفایت شعاری: خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات وفاق اور پنجاب سے کتنے مختلف ہیں؟
انہوں نے کہاکہ گورنر کو بھی وفاقی نمائندے کی حیثیت سے اس معاملے میں زیادہ متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ صوبہ سب کا ہے اور اس کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔













