خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں اضافے کے پیش نظر عوامی سطح پر یہ بحث چل پڑی ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے کبھی بھی دہشتگردی کی کھل کر مذمت نہیں کی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: 8 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 605 واقعات میں 138 شہری شہید ہوئے، سی ٹی ڈی
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے بارہا دہشتگردوں سے متعلق ملے جلے اور متضاد بیانات دیے جس سے عوام میں کنفیوژن پیدا ہوئی۔
پوسٹ کے مطابق سہیل آفریدی سیکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ میں کبھ کبھار ہی شریک ہوتے ہیں۔
یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے پاکستان میں دہشتگردی میں افغان طالبان کے کردار کی کبھی مذمت نہیں کی۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نہ صرف دہشتگردی کی مذمت نہیں کرتے بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ دہشتگردی کے پیچھے فوج کا کردار ہے، جسے ہزاروں شہدا سے غداری قرار دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کا بیانیہ مسلح افواج کو کمزور اور دہشتگردوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ مسلسل دہشتگردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے گورننس ریکارڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی ناقص حکمرانی سے فتنہ الخوارج کو جگہ ملی اور ریاستی رٹ کمزور ہوئی۔
مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات میں مبینہ غفلت سے خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر یکجہتی کی ضرورت ہے، تاہم ان کی مبینہ ناکامی نے عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیا، جس کے نتیجے میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق کے اثرات، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی
سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا کے عوام ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کے مستحق ہیں جو اس تمام تر صورت حال سے نمٹنے میں ناکام ہو۔













