سانس زندگی کا پہلا اور آخری عمل: بہتر صحت کے لیے آسان اور مؤثر بریتھنگ ٹیکنیکس

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدیم روایات پر مبنی ’بریتھ ورک‘ (سانس کی مشقوں) کی جدید سائنسی تحقیق یہ ظاہر کر رہی ہے کہ صرف چند منٹ سانس پر توجہ مرکوز کرنے سے فوری طور پر ذہنی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور طویل مدت میں صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں میں سانس روکنے کے دورے: وجوہات، علامات، ابتدائی طبی امداد اور احتیاطی تدابیر

سانس لینا زندگی کا پہلا اور آخری عمل ہے۔ یہ ایک خودکار لاشعوری عمل ہے جو جسم کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل جاری رہتا ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق اسے بہتر انداز میں کرنے سے جسم اور دماغ دونوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

بریتھ ورک کیا ہے؟

بریتھ ورک قدیم مشقوں پر مبنی ایک طریقہ ہے جو مختلف ثقافتوں میں صدیوں سے رائج ہے۔ اس میں ہندوستان کے ’پرانیام‘ اور چین کے ’چی گونگ‘ جیسے طریقے شامل ہیں جن کا مقصد سانس کے ذریعے جسم اور ذہن میں توازن پیدا کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: سانس سے ذیابیطس کی تشخیص کا کامیاب تجربہ، امریکی سائنسدانوں کی نئی تحقیق

ماہرین کے مطابق اگر روزانہ صرف چند منٹ بھی سانس پر توجہ دی جائے تو یہ ذہنی سکون، کم دباؤ اور بہتر صحت کا باعث بن سکتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جدید طرز زندگی میں بہت سے لوگ بہت تیز اور سطحی سانس لیتے ہیں جس سے جسم ’اسٹریس موڈ‘ میں چلا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تیز سانس لینے سے جسم کا ’فائٹ یا فلائٹ‘ سسٹم فعال ہو جاتا ہے جبکہ آہستہ اور گہری سانس ’ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘ نظام کو متحرک کرتی ہے۔

مزید پڑھیے: کورونا وبا: انسانیت بے چین تھی لیکن سمندری مخلوق نے سکھ کا سانس لیا

الغرض سانس لینے کا طریقہ براہ راست ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

چند منٹ کی مشق سے فائدہ

تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ چند منٹ کی سانس کی مشق سے اسٹریس ہارمون کم ہو سکتے ہیں، کچھ دائمی بیماریوں میں علامات بہتر ہو سکتی ہیں اور دماغی سکون اور توجہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حاملہ خواتین یا دمہ جیسے عارضوں کے مریض کسی بھی نئی سانس کی مشق سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

سائکلک سائنگ

یہ ایک سادہ مگر مؤثر تکنیک ہے اور اس کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ ناک کے ذریعے گہرا (گہری) سانس لیں، پھر ایک چھوٹا سا اضافی سانس اوپر سے لیں اور اس کے بعد منہ سے آہستہ آہستہ لمبی سانس باہر نکالیں۔

تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 5 منٹ یہ مشق کرنے سے موڈ بہتر اور بے چینی کم ہو سکتی ہے۔

باکس بریتھنگ

اس میں سانس کو ایک برابر رفتار میں رکھا جاتا ہے۔ 4 سیکنڈ سانس لیں، 4 سیکنڈ روکیں، 4 سیکنڈ سانس باہر نکالیں اور 4 سیکنڈ دوبارہ روکیں۔

یہ طریقہ خاص طور پر ذہنی دباؤ والے حالات میں توجہ اور سکون بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

4-7-8 تکنیک

یہ ایک سادہ مگر مشہور طریقہ ہے۔ یعنی 4 سیکنڈ سانس لیں، 7 سیکنڈ روکیں اور 8 سیکنڈ میں سانس باہر نکالیں۔

یہ طریقہ بیچنی یا اضطراب (اینگزائیٹی) کم کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔

کوہیرینٹ بریتھنگ

اس میں سانس کی رفتار کو تقریباً ایک جیسا رکھا جاتا ہے۔ 5 سیکنڈ میں سانس لیں اور 5 سیکنڈ میں سانس باہر نکالیں۔

یہ طریقہ دل کی دھڑکن اور اعصابی نظام کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے اور جسم کو زیادہ پرسکون حالت میں لے آتا ہے۔

A52 بریتھ طریقہ

یہ کوہیرینٹ بریتھنگ سے ملتا جلتا ہے۔ 5 سیکنڈ سانس لیں، 5 سیکنڈ سانس باہر نکالیں اور پھر 2 سیکنڈ کا ہلکا سا وقفہ کریں۔

یہ مشق آہستہ آہستہ جسم کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق کسی ایک مخصوص تکنیک میں مہارت حاصل کرنا ضروری نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ روزانہ چند منٹ آہستہ، نرم اور گہری سانس لینے کی عادت ڈالی جائے۔

یہ بھی پڑھیے: نام نہاد ماڈل شہر جہاں سانس لینا محال ہوتا جا رہا ہے

صرف 3 سے 5 منٹ کی روزانہ مشق بھی ذہنی دباؤ کم کرنے، توجہ بڑھانے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp