پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کو ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹنے والی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے فوری مداخلت کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ عمران کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ انہیں اہل خانہ اور قانونی معاونت تک مؤثر رسائی حاصل نہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ان کی آنکھوں کے مسائل اور اس کے علاج معالجے سے متعلق شفاف معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ اہل خانہ کی رسائی سے انکار مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ان کی بہن کی پوسٹس کی بنیاد پر کیا گیا، جسے اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ آئین و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، لہٰذا میڈیکل ریکارڈز فراہم کیے جائیں، ایک انسپکشن کمیٹی تشکیل دی جائے، آزاد میڈیکل بورڈ بنایا جائے، منظم رسائی دی جائے اور مکمل مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل قوانین میں ایسا کوئی ضابطہ موجود نہیں کہ بیماری کی صورت میں اہل خانہ کو بلایا جائے یا ان کی نگرانی میں علاج کروایا جائے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان میں دستیاب بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔













