آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اقوام متحدہ کے 13ویں عالمی شہری فورم کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے وزرا، میئرز، ماہرین تعمیرات اور شہری منصوبہ ساز محفوظ، پائیدار اور کم لاگت رہائش کے عالمی چیلنج پر غور کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن: ترقی یا انسانی بحران؟
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی بستیاں ’یو این ہیبیٹٹ‘ اور آذربائیجان کی حکومت کے اشتراک سے ہونے والے اس فورم میں ایسے رہائشی بحران پر بات چیت جاری ہے جو دنیا بھر میں قریباً 2.8 ارب افراد کو متاثر کر رہا ہے۔
فورم میں بتایا گیا کہ گزشتہ برسوں میں کئی ممالک نے قومی شہری پالیسیاں اور کم لاگت رہائشی منصوبے متعارف کرائے، تاہم ’یو این ہیبیٹٹ‘ کے مطابق یہ اقدامات اب بھی ناکافی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں ایک ارب 10 کروڑ سے زائد افراد کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
افتتاحی اجلاسوں میں سستی رہائش، کچی آبادیوں کی بہتری، کمزور طبقات کے تحفظ اور جنگ سے متاثرہ شہروں کی بحالی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ شام کے شہر حمص کے میئر بشار السباعی نے کہا کہ جنگ کے بعد لاکھوں افراد کی واپسی کے باوجود تباہ شدہ انفراسٹرکچر، بجلی کی قلت اور صفائی کے مسائل بدستور سنگین ہیں اور شہر کو فوری مالی امداد درکار ہے۔
فورم میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں موضوع رہے۔ ماہرین کے مطابق غیر محفوظ رہائشی علاقوں میں رہنے والے لوگ سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ تعمیراتی شعبہ دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔
باکو میں فورم کے پہلے روز ہونے والی شدید بارش نے بھی موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو اجاگر کیا، جہاں شہری انتظامیہ کو سڑکوں سے پانی نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں:سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک
امریکی ماہر تعمیرات لانس جے براؤن نے کہا کہ اگر امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی لاکھوں افراد بے گھر ہوں تو یہ واضح عالمی بحران ہے۔ ان کے مطابق نیویارک سمیت بڑے شہروں میں کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کا حصول تیزی سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شرکا نے امید ظاہر کی کہ باکو فورم میں ہونے والی گفتگو اور تجاویز دنیا کو رہائش، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تحفظ کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی فراہم کریں گی۔













