وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سنگجانی کے مقام پر مرکزی شاہراہ بند کرنے کے اقدام کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمن طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو ایسا قدم زیب نہیں دیتا جس سے عام شہریوں، مریضوں، طلبہ، مزدوروں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کی زندگی متاثر ہو۔
خیبرپختونخوا میں گورننس، امن و امان، کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی ناکامیوں پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ عوام حکومت سے کارکردگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے توجہ ہٹانے کے لیے ایک نیا سیاسی اسٹنٹ شروع کیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف پہلے بھی اڈیالہ جیل کے معاملات، سڑک بند سیاست اور میڈیا شوز کے ذریعے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہے، جنہیں عوام کی جانب سے بار بار مسترد کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام اب نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے متاثر نہیں ہوں گے، اور انہیں بند سڑکوں کے بجائے بہتر گورننس، امن، روزگار اور ریلیف کی ضرورت ہے۔ سیاست کو عوام کی خدمت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ عوام کی زندگی مفلوج کرنے کا نام نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے معاملات سنبھالنے کے بجائے شاہراہیں بند کرنے کی طرف متوجہ ہیں، جبکہ عوام امن، روزگار اور ریلیف کے منتظر ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کام اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عام شہریوں کی زندگی مشکل بنانا نہیں۔ خیبرپختونخوا میں کرپشن، بدامنی، بدانتظامی اور اقربا پروری کے سوالات موجود ہیں، تاہم اس کے جواب میں عوام کو کارکردگی کے بجائے سڑک بند احتجاج دکھایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کا پرانا طرزِ عمل ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ جب حکومت نہ چل سکے تو ڈرامہ کیا جاتا ہے، جواب نہ ہو تو شور مچایا جاتا ہے اور کارکردگی نہ ہو تو سڑکیں بند کی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل سے متعلق پہلے کے احتجاج ناکام رہے اور سنگجانی کا یہ اقدام بھی عوامی ردعمل کا سامنا کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام کو نمائشی سیاست نہیں بلکہ بہتر انتظامی کارکردگی، امن اور ریلیف درکار ہے۔













