کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ’خلائی مخلوق‘ صرف خلا تک محدود نہیں رہی اور اب اس کی حکمرانی سمندروں کی تہوں میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
سابق امریکی نیوی کے ایڈمرل ٹم گالاؤڈیٹ کا کہنا ہے کہ غیر انسانی ذہانت اب زمین کے سمندروں پر حکمرانی کرتی ہے۔
گالاؤڈیٹ نے سنہ 2015 میں امریکی مشرقی ساحل کے قریب نیوی کے F/A‑18 طیارے سے یو ایف او دیکھنے کے واقعے کا ذکر کیا جسے ’گو فاسٹ‘ سائیٹنگ کہا جاتا ہے۔ ویڈیو میں ایک تیز رفتاری سے حرکت کرتا ہوا شے صرف ایک سفید دھند کی مانند نظر آئی۔
🚨Retired U.S. Navy Rear Admiral Timothy Gallaudet on UFO Files
"A spherical object moving around a wind farm in the Indo-Pacific"
"No means of propulsion, no exhaust. How is that happening?"
"I was read into adversary threat programs none of our competitors have capabilities… pic.twitter.com/Rdmh5bTqND
— Skywatch Signal (@UAPWatchers) May 13, 2026
ایڈمرل کے مطابق یہ شے خاص تھی کیونکہ اس کی رفتار فزکس کے اصولوں کے مطابق ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہم نے کوئی ایسا آلہ نہیں بنایا جو پانی میں اتنی تیز رفتاری سے جا سکے اور پانی سے ہوا میں داخل ہونے پر رفتار نہ بدلے۔ بہت سے مشاہدوں میں سپر فاسٹ ایکسلریشن اور دائیں زاویے کے موڑ دکھائی دیے ہیں لیکن ابھی تک ہم نے ایسا کچھ ایجاد نہیں کیا۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
گالاؤڈیٹ کا خیال ہے کہ یہ جہاز انسانی کنٹرول میں ممکن نہیں اور یہ صرف اعلیٰ درجے کی ذہانت کے زیر کنٹرول ہیں اور یہ ہمارے فطری دنیا سے تعلق نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ یہ ہمارے جانے پہچانے پودوں یا جانوروں کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب سابق امریکی ایڈمرل نے ایسے شاندار دعوے کیے ہوں۔ اسی ماہ نیوی کے سابق اوشنوگرافر جنہوں نے 32 سال خدمت کی، نے خبردار کیا کہ ہم پر ایک اعلیٰ درجے کی ذہانت کی جانب سے مسلسل مشاہدہ کیا جا رہا ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے اور جس کے ارادے بالکل غیر معلوم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فضائی حدود اور پانیوں دونوں میں یہ واقعات بہت کثرت سے ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: 2 برس میں دنیا کو ٹھیک کرنے کیلیے خلائی مخلوق اترنے والی ہے، 911 کی درست پیشگوئی کرنیوالے کی اگلی خبر
گالاؤڈیٹ نے غیر شناخت شدہ زیر آب اشیا کو فضائی مشاہدات سے جوڑا اور 2024 اور 2026 میں کانگریس کے سامنے فوجی سینسر ڈیٹا کی شفافیت کے لیے گواہی بھی دی ہے۔














