ٹرمپ انتظامیہ نے پینے کے پانی میں چار مضرِ صحت ‘فورایور کیمیکلز’ پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں نافذ کی گئی تھیں۔
امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کی جانب سے پیش کردہ اس نئی تجویز کے تحت سابقہ دور کے قواعد و ضوابط کو یکسر تبدیل کر دیا جائے گا، جس کا مقصد وفاق کے مقررہ معیار کو نرم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمسی توانائی سے چلنے والا ہائیڈروجیل فضا سے پینے کا صاف پانی بنانے میں کامیاب
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سابقہ حکومت نے قانونی اور طریقہ کار کے تقاضے پورے کیے بغیر عجلت میں جین ایکس، پی ایف این اے، پی ایف ایچ ایکس ایس اور پی ایف بی ایس جیسے خطرناک مرکبات پر یہ پابندیاں عائد کی تھیں۔
نئی پالیسی کے تحت بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے 2 دیگر مضر مرکبات پی ایف او اے اور پی ایف او ایس کے خلاف ملک گیر معیارات کے نفاذ کو بھی فی الحال مؤخر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ماحولیاتی ادارے کے سربراہ لی زیلڈن نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور موزوں ترین قانونی طریقہ کار کے ذریعے امریکیوں کو صحت مند بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کی طرح اب پانی بھی جنگ میں اہم ہدف
دوسری جانب ہیلتھ ایکسپرٹس اور عوامی حقوق کے علمبرداروں نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کروڑوں امریکیوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا ہے اور عدالت سے رجوع کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ فورایور کیمیکلز ماحول میں کبھی ختم نہیں ہوتے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 20 کروڑ سے زائد امریکیوں کا پینے کا پانی ان کیمیکلز سے آلودہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی پابندیوں سے 10 کروڑ لوگوں کو کینسر، دل کے امراض، جگر کے مسائل اور نوزائیدہ بچوں کی بیماریوں سے تحفظ ملنا تھا، جو اب خطرے میں پڑ گیا ہے۔














