کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقی کانگو میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایبولا کے مزید 26 مشتبہ مریضوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے وبا کے تیزی سے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکام کے مطابق نئی ہلاکتوں کے بعد مشرقی کانگو میں اس وبا سے منسلک اموات کی تعداد 131 ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کانگو میں کالٹن کی کان بیٹھ گئی، 200 سے زائد ہلاک

کانگو کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک ایبولا کے 543 مشتبہ اور 33 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔

دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے  وائرس کی نایاب ’بندی بوجیو‘ قسم کے پھیلاؤ کو عالمی صحت کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس بلانے سے پہلے ایسی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہو۔

ماہرین کے مطابق اس وبا نے شدید تشویش اس لیے پیدا کی ہے کیونکہ یہ کئی ہفتوں تک بغیر شناخت کے ایسے گنجان آباد علاقوں میں پھیلتی رہی جہاں پہلے ہی مسلح تشدد اور بدامنی موجود ہے۔

یاد رہے کہ 2018 سے 2020 کے دوران مشرقی کانگو میں ایبولا کی ایک اور وبا تقریباً 2 ہزار 300 افراد کی جان لے چکی تھی، جو تاریخ کی دوسری مہلک ترین وبا تھی۔

مزید پڑھیں: ماربرگ وائرس کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہے؟

کانگو کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر ژاں ژاک موئیمبے کے مطابق لاکھوں آبادی والے شہر بوٹیمبو میں پیر کے روز ایبولا کے پہلے 2 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

ادھر یوگنڈا کے حکام نے ایشاشا-کیسھیرو سرحدی گزرگاہ پر نقل و حرکت محدود کرنا شروع کر دی ہے، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب جنوبی علاقوں میں گوما اور بوکاوو شہروں سے روانڈا جانے کی کوشش کرنے والے کانگو کے شہریوں کو بھی سرحد پر روک دیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے ہفتے کے روز ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرحدیں بند نہ کریں کیونکہ اس سے غیر قانونی اور غیر نگرانی شدہ راستوں سے آمد و رفت بڑھ سکتی ہے۔

ایبولا وائرس متاثرہ انسانوں یا جانوروں کے جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے سے پھیلتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کی اوسط شرحِ اموات تقریباً 50 فیصد ہے۔

جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا کہ وہ اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار اور شدت پر انتہائی تشویش رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدے کی امید پھر روشن، آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے لگے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران جنگ نہیں، امریکی سینیٹ میں اہم پیشرفت

وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ

پاکستان نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا