روس نے وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات اور اہم دھاتوں تک رسائی کے لیے امریکا اور یورپی یونین کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے
روسی نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزین نے روسی اخبار ’ازویستیا‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں سے متعلق معاہدوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، جو صرف معاشی مقابلہ نہیں بلکہ روس کو خطے سے باہر دھکیلنے کی کوشش بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک روس کی سرحدوں کے قریب اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 7 صنعتی ممالک کے گروپ اور مغربی طاقتیں برقی گاڑیوں، قابل تجدید توانائی اور دفاعی نظاموں کے لیے ضروری نایاب معدنیات کی فراہمی میں چین پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔
وسطی ایشیا کے ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان معدنی وسائل سے مالا مال سمجھے جاتے ہیں، جبکہ روس انہیں اپنے روایتی دائرۂ اثر کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب چین بھی حالیہ برسوں میں اس خطے میں اپنی دلچسپی بڑھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:روس اور پاکستان کے مشاورتی گروپ کا اجلاس، بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کا عزم
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس وسطی ایشیائی رہنماؤں سے ملاقات میں اہم معدنیات کو امریکی ترجیحات میں شامل قرار دیا تھا اور عالمی معاہدوں کے ذریعے سپلائی چین مضبوط بنانے پر زور دیا تھا۔














