سائنس دانوں نے حیاتیاتی علوم میں ایک اہم اور حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے منصنوعی انڈوں سے 26 صحت مند چوزے نکال لیے ہیں۔
ماہرین اس پیشرفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جو سائنس کو ایسے مصنوعی رحم کی تیاری کے مزید قریب لے جا سکتی ہے جہاں بچوں کی پرورش اور پیدائش ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: آپ جو انڈہ کھا رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی؟ فیکٹری میں بنے جعلی انڈوں کی ویڈیو وائرل
تجربہ کیسے کیا گیا؟
یہ تجربہ امریکی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز نے انجام دیا، جس میں سائنس دانوں نے شفاف تھری ڈی پرنٹڈ ’مصنوعی انڈے‘ تیار کیے۔ ان انڈوں کو قدرتی خول کے بغیر پرندوں کے جنین کی افزائش کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ان مصنوعی انڈوں کے اندر خصوصی سلیکون جھلی لگائی گئی تھی، جو آکسیجن سمیت گیسوں کے قدرتی تبادلے کو ممکن بناتی ہے، جبکہ قدرتی کیلشیئم کی کمی پوری کرنے کے لیے محققین نے پیسا ہوا کیلشیئم استعمال کیا۔
نایاب پرندوں کو بچانے کی کوشش
اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ان پرندوں کی نسلوں کو محفوظ بنانا ہے جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ماہرین اس منصوبے کے ذریعے نیوزی لینڈ کے دیوہیکل اور اڑان سے محروم پرندے ’موآ‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ یہ پرندہ قریباً 12 فٹ بلند تھا اور چار لیٹر حجم کے انڈے دیتا تھا۔
معدوم جانوروں کی واپسی کے منصوبے
کولوسل بائیوسائنسز اس سے قبل بھی معدوم جانوروں کو دوبارہ زندہ کرنے کے مختلف منصوبوں پر کام کر چکی ہے۔ کمپنی نے ماضی میں معدوم ’ڈائر وولف‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اسی ماہ سائنسدانوں نے 200 سال قبل معدوم ہونے والے ’بلیو بک ہرن‘ کو واپس لانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جبکہ کمپنی اون دار میمتھ اور ڈوڈو پرندے کی واپسی پر بھی کام کررہی ہے۔
کمپنی کے چیف بائیولوجی افسر اینڈریو پاسک نے اس کامیابی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مصنوعی انڈوں میں چوزوں کو حرکت کرتے دیکھنا ناقابل یقین تھا اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ رحم کے باہر بھی زندگی کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی حیاتیاتی تحقیق میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اب پورے پرندے کو انڈے کے قدرتی خول کے بغیر انکیوبیٹر میں پروان چڑھانا ممکن ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ’بٹر فلائی لیڈی‘: شرین عبداللہ کی تتلیوں کو بچانے کے لیے 2 دہائیوں پر محیط جنگ
سائنسی حلقوں میں تنقید
تاہم سائنسی برادری کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کو حد سے زیادہ غیرمعمولی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
1998 سے بغیر خول والے انڈوں پر تحقیق کرنے والے بعض محققین کے مطابق یہ طریقہ مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ پہلے سے موجود تکنیک میں ایک نئی بہتری ہے۔














