بھارت میں چاندی کی درآمدات پر نئی پابندیوں کے بعد پاکستان میں چاندی کی قیمتوں پر بالواسطہ مثبت اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی دہلی کی جانب سے یہ اقدام ملکی معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی دیگر مارکیٹوں خصوصاً پاکستان میں چاندی کی تجارت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدہ ہوجانے پر عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا امکان
چونکہ پاکستان پہلے ہی بھارت سے درآمدات پر پابندی عائد کر چکا ہے، اس لیے بھارتی فیصلے کے بعد مقامی مارکیٹ پر دباؤ نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے۔
ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ بھارت میں سپلائی محدود ہونے سے وہاں چاندی مہنگی ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
چاندی کی قیمت میں کمی جہاں بہت سے سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی، وہیں دوسری جانب وہ افراد جنہوں نے بڑی تعداد میں مہنگے داموں چاندی سرمائے کے طور پر خریدی تھی، انہیں بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔
مگر یہاں اس چیز کے واضح ہونے کی ضرورت ہے کہ آیا چاندی کی قیمت میں گراؤٹ مستقل ہوگی یا پھر عارضی، اور اس کی قیمت میں کتنی کمی متوقع ہے؟
عالمی منڈی میں جاری دباؤ اور غیریقینی صورتحال نے قیمتوں کو متاثر کیا، محمد ارشد
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین آل جیولرز ایسوسی ایشن پاکستان محمد ارشد نے کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
انہوں نے کہاکہ رواں ہفتے چاندی 85 ڈالر فی اونس تک ٹریڈ ہوئی، جبکہ آج یہی دھات قریباً 75 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ چکی ہے، یعنی مختصر عرصے میں قریباً 10 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ اس ماہ چاندی کی طلب میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سرمایہ کار پہلے ہی بلند قیمتوں پر خریداری کر چکے تھے، جس کے باعث مارکیٹ میں نئی خریداری کا رجحان سست پڑ گیا۔
محمد ارشد کے مطابق عالمی منڈی میں جاری دباؤ اور غیر یقینی صورتحال نے بھی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
محمد ارشد نے کہاکہ موجودہ حالات میں چاندی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو وقتی نقصان یا دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم یہ صورتحال مستقل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صنعتی شعبوں، ٹیکنالوجی اور دیگر کئی سیکٹرز میں چاندی کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس دھات کی بنیادی اہمیت برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ موجودہ جغرافیائی کشیدگی، جنگی ماحول اور عالمی معاشی بے یقینی نے سونا اور چاندی سمیت قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، لیکن جیسے ہی عالمی حالات میں بہتری آئے گی اور مارکیٹ میں دوبارہ ڈیمانڈ پیدا ہوگی، چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
’سونا اور چاندی ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں‘
چیئرمین آل جیولرز ایسوسی ایشن پاکستان نے کہاکہ سونا اور چاندی ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں، اسی لیے طویل مدت میں ان دھاتوں کی اہمیت اور قدر برقرار رہنے کی توقع ہے۔
چاند کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ وقتی ہے، مجتبیٰ انصاری
راولپنڈی صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے ممبر مجتبیٰ انصاری کا کہنا ہے کہ چاندی کی موجودہ قیمتوں میں وقتی اتار چڑھاؤ ضرور آ سکتا ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر اس کی قدر میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ان کے مطابق اس وقت اگر چاندی کی قیمت قریباً 8 ہزار روپے کے آس پاس ہے تو مارکیٹ میں مزید 2 ہزار روپے تک کمی کا امکان موجود ہے، یعنی قیمت زیادہ سے زیادہ 6 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔
مجتبیٰ انصاری کے مطابق یہ کمی وقتی ہوگی اور سرمایہ کاروں کو گھبرانے کے بجائے مارکیٹ کی طویل المدتی صورتحال کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی حالات، مہنگائی میں اضافہ اور قیمتی دھاتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث آنے والے 2 سالوں میں چاندی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہاکہ مستقبل میں چاندی کی قیمت 40 ہزار روپے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں، اسی لیے موجودہ کمی کو مارکیٹ کا ایک عارضی مرحلہ سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں کمی متوقع ہے، محمد شہزاد
اسلام آباد ایف سیون مارکیٹ کے جیولر محمد شہزاد اکرم شفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چاندی کی قیمت میں کمی متوقع ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ چاندی کہ قیمت میں کمی کے باعث بہت سے افراد کو نقصان ہوگا، کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے کی ہائپ نے لوگوں کو چاندی خریدنے پر مجبور کیا، اب جب چاندی کی قیمت میں کمی ہوگی تو ان تمام افراد کو نقصان ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمتیں عروج پر، لوگ سرمایہ کاری کے لیے چاندی کی طرف مائل
ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ چاندی اب وہ دھات بنتی جا رہی ہے جس کا کافی زیادہ استعمال صنعتوں میں بڑھ رہا ہے، جس کہ وجہ سے مستقبل میں چاندی کی ڈیمانڈ بڑھنے سے اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا، تو چاندی ایک لانگ ٹرم سرمائے کے طور پر فائدہ مند ہے۔










