روسی اور چینی قیادت کی ملاقات، چین کا سخت لہجہ، کیا پاکستان کا کردار بڑھنے جارہا ہے؟

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

14اور 15 مئی کو امریکی صدر کے دورۂ چین کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن آج بیجنگ پہنچے تھے اور یہ دورہ اس حوالے سے اور اہمیت حاصل کر گیا جب چین نے مشرقِ وسطیٰ معاملے پر قدرے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ سے جنگی کارروائیاں روکی جائیں اور سفارتکاری کے ذریعے معاملے کو حل کیا جائے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ایران امریکا تنازع ایسا ہے جس پر مزید کوئی مشورہ نہیں دیا جاسکتا لیکن جنگ بندی ضرور ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور روس کا اسٹریٹجک اتحاد مزید مضبوط، شی جن پنگ اور پیوٹن کے درمیان اہم معاہدے

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اُنہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ بعض طاقتیں یکطرفہ طور پر عالمی معاملات کو اپنی مرضی سے چلانے اور دوسروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اگرچہ امریکا یا اسرائیل کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا، لیکن سفارتی حلقوں میں اسے مغربی پالیسیوں خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں فوجی دباؤ کے خلاف اشارہ سمجھا جارہا ہے۔

یہ لہجہ چین کے روایتی محتاط انداز سے کچھ مختلف اس لیے بھی دکھائی دیتا ہے کیونکہ چین اب خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے توانائی اور جیوپولیٹیکل مفادات کے باعث زیادہ فعال مؤقف اختیار کر رہا ہے۔

پاکستان کا کردار کیسے بڑھے گا؟

پاکستان چین کا قریبی دوست اور شراکت دار ہے اور روس کے ساتھ اُس کے مراسم بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایران-امریکا تنازع کے اندر ایک انتہائی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی قیادت پر بے پناہ اعتماد کرتے ہیں اور ایرانی حکومت بھی نہ صرف پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے بلکہ ایرانی قیادت کئی مواقع پر پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو 29 اور 30مارچ کو ایران امریکا تنازعے کے حل پر غور کرنے کے لیے پاکستان میں چار مُلکی اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، مصر، اور تُرکئے کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: چین، روس، شمالی کوریا اور ایران مل کر کام کررہے ہیں، نیٹو چیف

اس اجلاس کے فوراً بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ گئے جہاں اُنہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان اور چین نے مل کر ایک 5 نکاتی امن منصوبہ تجویز کیا۔ اس کے علاوہ بیجنگ نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا کہ ایران امریکا تنازعے کے لیے وہ پاکستان کی کوششوں کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

آنے والے دِنوں میں پاکستان پر یہ دباؤ آسکتا ہے کہ وہ کسی ایک کیمپ کا حصہ بنے لیکن پاکستان کے لیے مفید یہ ہے کہ وہ اپنی ملٹی ویکٹر یا کثیرالمُلکی سفارت کاری کو جاری رکھے۔

پاکستان کی بطور پُل یا برِج اسٹیٹ حیثیت مضبوط ہوسکتی ہے

پاکستان اِس وقت متصادم مفادات کے حامل ممالک کے درمیان ایک پُل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ آج ایک بار پھر تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ مسئلے کے حل کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو اس وقت امریکا، یورپ سمیت علاقائی طاقتوں کا اعتماد بھی حاصل ہے جو پاکستان کی سفارتی اہمیت کو کئی گُنا بڑھا دیتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی نظام دو یا زیادہ طاقتور بلاکس میں تقسیم ہو رہا ہے۔

توانائی اور تجارت کے نئے امکانات

روس اگر اپنی توانائی کی برآمدات ایشیا کی طرف مزید منتقل کرتا ہے تو پاکستان کے لیے سستی توانائی، گیس سپلائی، تیل اور ممکنہ ریجنل کنیکٹیویٹی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن جیسے منصوبے دوبارہ اہم ہوسکتے ہیں، جبکہ چین کے ذریعے روسی سرمایہ یا توانائی پاکستان تک پہنچنے کی نئی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ خاص طور پر اگر علاقائی راہداریوں کو فعال کیا جائے تو پاکستان ایک لاجسٹک ہب بن سکتا ہے۔

سی پیک کی جغرافیائی اہمیت بڑھ سکتی ہے

اگر روس چین کے ساتھ اپنی معاشی وابستگی کو مزید گہرا کرتا ہے تو وسط ایشیا اور روس کو بحیرۂ عرب تک رسائی کے لیے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں پاک چین اقتصادی راہداری صرف چین-پاکستان منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع یوریشین تجارتی راہداری میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روسی صدر کے دورۂ چین کی اہمیت

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا حالیہ دورۂ چین ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں طاقت کے نئے توازن کی علامت ہے۔ ایسے وقت میں جب روس مغربی پابندیوں، یوکرین جنگ اور یورپ سے توانائی کے تعلقات میں کمی کا سامنا کررہا ہے، چین روس کے لیے معاشی، سفارتی اور تزویراتی سہارا بنتا جارہا ہے،اس تناظر میں پیوٹن کا دورہ دراصل ایک ابھرتے ہوئے روس-چین محور کی سمت ایک اور قدم سمجھا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ روس اور چین صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ توانائی، دفاع، تجارت اور متبادل عالمی مالیاتی نظام کی سمت عملی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد چین روس کا سب سے بڑا معاشی شراکت دار بن چکا ہے جبکہ روس تیزی سے اپنی گیس اور تیل کی برآمدات یورپ سے چین کی طرف منتقل کررہا ہے۔

 پاور آف سائبیریا 2 جیسے توانائی منصوبے اسی اسٹریٹجک تبدیلی کی علامت ہیں۔ دونوں ممالک مقامی کرنسیوں میں تجارت، مغربی پابندیوں سے بچاؤ اور ایک کثیر قطبی عالمی نظام یا ملٹی پولر ورلڈ کی بات کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp