سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے۔
سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع فوجی حملہ مؤخر کردیا گیا ہے کیونکہ اب سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سفارت کاری کو موقع دینے کے اقدام کو سراہتا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول معاہدہ طے کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس حوالے سے پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کےحل کیلئےپاکستان کی مسلسل ثالثی کو سراہتےہیں،سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان-
امریکی صدر کا آبنائے ہرمز کھولنے کی خاطر بات چیت کرنا مثبت رویہ ہے۔
امید کرتے ہیں کہ ایران موقع کا فائدہ اٹھا کر کشیدگی کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہے گا۔1/2 pic.twitter.com/U2WfcSzDxk— S-rehman (@rehman46043768) May 21, 2026
سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ریاض کو امید ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔
پاکستان گزشتہ چند ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا تاہم اس میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوسکی۔
فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستانی حکام ایران اور امریکا کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور امن تجاویز پہنچا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کو 5 دنوں میں دوسری مرتبہ تہران پہنچے جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ خطے کی تازہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: خطے میں کشیدگی کے باوجود معیشت میں استحکام برقرار ہے، وفاقی وزرا، سعودی عرب کی جانب سے تعاون کو سراہا
اگرچہ 8 اپریل سے امریکا اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، اختلافات خاص طور پر ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر برقرار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ انتباہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا چند روز میں ایران پر دوبارہ حملے شروع کرسکتا ہے، جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امن کوششوں کے خلاف مبینہ اسرائیلی پروپیگنڈا بے نقاب
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں وسیع علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو متوقع علاقائی جنگ اس مرتبہ خطے سے کہیں آگے تک پھیل جائے گی۔














