دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں مصنوعی ذہانت (AI) پر بڑھتی توجہ کے درمیان ہزاروں ملازمین کی برطرفیوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل پوسٹ نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا نے حالیہ مہینوں میں اپنی کمپنی کے اندر اے آئی پر مبنی نئی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ٹیموں کی تنظیمِ نو شروع کی جس کے تحت ملازمین کو اے آئی ٹولز اور پروجیکٹس پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ میٹا اب چھوٹی، تیز رفتار اور اے آئی فوکسڈ ٹیمیں بنانا چاہتی ہے تاکہ فیصلے جلد اور مؤثر انداز میں کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کا انقلابی قدم، معذور افراد کے لیے اے آئی سے لیس حیرت انگیز فیچرز متعارف کروا دیا
اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’جولین‘ نامی صارف کی ایک پوسٹ وائرل ہوگئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ میٹا نے چند ماہ قبل ‘AI Week’ کے نام سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا تھا۔ اس پروگرام کے دوران ملازمین کو اپنے معمول کے کام روک کر اے آئی ٹولز سیکھنے اور نئے داخلی اے آئی پروجیکٹس تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
پوسٹ کے مطابق جولین کی اہلیہ نے بھی ایک ایسے ہی اے آئی پروجیکٹ پر کئی ماہ تک سینئر انجینئرز اور مینجمنٹ کے ساتھ کام کیا تاہم بعد میں انہیں اسی کمپنی سے فارغ کردیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کو ٹیک انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے اس خوف کی علامت قرار دیا کہ اے آئی تیار کرنے والے افراد خود اپنی ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

اگرچہ ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم میٹا میں جاری حالیہ برطرفیوں کے تناظر میں یہ معاملہ خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی نے امریکا، یورپ اور سنگاپور سمیت مختلف خطوں میں ملازمین کو فارغ کرنا شروع کردیا ہے جبکہ ہزاروں افراد کو برطرفی کی ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق میٹا تقریباً 7 ہزار ملازمین کو اے آئی سے متعلق ٹیموں میں منتقل کرچکا ہے جبکہ کمپنی رواں سال مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کے لمحات تازہ کریں: اے آئی کے ذریعے اپنی کم عمری والی تصاویر بنائیں
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ رواں سال مزید کمپنی بھر میں بڑے پیمانے کی برطرفیوں کا امکان نہیں تاہم مخصوص شعبوں میں محدود کٹوتیاں کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب کمپنی کے اندر بے چینی میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک ہزار سے زائد ملازمین نے میٹا کی جانب سے اے آئی ٹریننگ کے لیے صارفین کے ڈیوائس ڈیٹا کے استعمال پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برطرفیوں سے کمپنی کو تقریباً 3 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے تاہم یہ رقم میٹا کے متوقع اے آئی اخراجات کے مقابلے میں نہایت کم سمجھی جا رہی ہے۔













