امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کی امیدیں معدوم ہونے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں مجموعی کمی ریکارڈ ہوئی، تاہم سرمایہ کار اب بھی مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، آبنائے ہرمز میں سپلائی کے خدشات اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے باعث محتاط دکھائی دیتے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.66 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے کے بعد 104.24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.11 ڈالر یا 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 97.46 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 7.6 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق توقعات میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں شدید غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات میں ’مثبت اشاروں‘ کا ذکر کیا، تاہم تہران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔
کیپیٹل اکنامکس کے چیف کموڈیٹیز اکنامسٹ ڈیوڈ آکسلی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حقیقی اور مستقل کمی اسی وقت ممکن ہوگی جب عالمی تیل مارکیٹ کے بنیادی حالات میں واضح بہتری آئے گی، اور بظاہر یہ عمل 2027 تک طویل ہو سکتا ہے۔
ادھر کمزور جنگ بندی کے نفاذ کو 6 ہفتے گزرنے کے باوجود جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ بلند تیل قیمتوں نے مہنگائی اور عالمی معیشت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
راکوتین سیکیورٹیز کے کموڈیٹی تجزیہ کار ساتورو یوشیدا نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ ہفتے ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 90 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جیسا کہ مارچ کے آخر سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فچ سلوشنز کے ذیلی ادارے BMI نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کی پیش گوئی 81.50 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق اس اضافے کی وجہ سپلائی میں کمی، مشرقِ وسطیٰ کے تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی میں درکار وقت، اور جنگ کے بعد معمولات کی بحالی کے لیے متوقع 6 سے 8 ہفتوں کا عرصہ ہے۔
جنگ سے قبل عالمی توانائی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتا تھا، تاہم موجودہ تنازع کے باعث روزانہ 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈی سے غائب ہو چکا ہے، جو دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 14 فیصد بنتا ہے۔ اس میں سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کی برآمدات بھی شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ADNOC کے سربراہ کے مطابق اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل 2027 کی پہلی یا دوسری سہ ماہی سے پہلے بحال ہونا ممکن نہیں۔
دوسری جانب اوپیک پلس کے 7 بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک 7 جون کو ہونے والے اجلاس میں جولائی کے لیے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کر سکتے ہیں، تاہم ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث کئی ممالک کی ترسیلات اب بھی متاثر ہیں۔













