بنگلہ دیش میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے معاشرتی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں سے جنسی زیادتی میں ملوث 10 میں سے 9 افراد ایسے ہوتے ہیں جو متاثرہ بچوں کے جاننے والے، قریبی رشتہ دار، پڑوسی، اساتذہ یا خاندانی تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمزور قانونی نظام، انصاف میں تاخیر اور سماجی بگاڑ بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم کو فروغ دے رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں حالیہ دل دہلا دینے والے واقعات پر عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے پلاّبی میں 8 سالہ بچی کے زیادتی کے بعد قتل اور سلہٹ میں 4 سالہ بچے کی مبینہ زیادتی کی کوشش کے بعد ہلاکت کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ دونوں مقدمات میں گرفتار یا مشتبہ افراد متاثرین کے پڑوسی بتائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں مطلوب بنگلہ دیشی شہری گرفتار، الاسکا منتقل
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’شیشورائی شوب‘ کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران سامنے آنے والے تقریباً 90 فیصد بچوں سے زیادتی کے ملزمان متاثرین کے جاننے والے تھے۔ ذرائع ابلاغ کی نگرانی پر مبنی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں سے زیادتی کے ریکارڈ شدہ واقعات میں 40 فیصد سے زائد میں پڑوسی ملوث تھے، جبکہ اس کے بعد جاننے والے افراد، اساتذہ اور قریبی رشتہ دار شامل رہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے زیادہ تر واقعات گھروں یا مانوس ماحول میں پیش آتے ہیں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق بچوں کے قتل کے تقریباً دو تہائی واقعات اور جنسی زیادتی کے لگ بھگ 60 فیصد کیسز گھریلو یا خاندانی ماحول میں رونما ہوئے۔
محققین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سزا کی کم شرح مجرموں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں بچوں کے قتل کے 124 درج شدہ مقدمات میں سے صرف دو میں سزا ہو سکی۔
ماہرین نے بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم کی وجوہات میں سماجی ٹوٹ پھوٹ، مردانہ بالادستی پر مبنی سوچ، ڈیجیٹل استحصال اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔ سماجیات اور جرائم کے ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ زیادتی کے جرم میں سزائے موت جیسی سخت سزائیں بعض اوقات ملزمان کو ثبوت مٹانے کے لیے متاثرہ بچوں کو قتل کرنے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت، قومی شوٹنگ کوچ پر کم عمر کھلاڑی سے جنسی زیادتی کا الزام
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ایسے واقعات بچوں اور ان کے خاندانوں پر گہرے ذہنی اثرات مرتب کر رہے ہیں، جبکہ مقدمات کے طویل التوا کے باعث عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مستقل قومی چائلڈ کمیشن قائم کیا جائے، حفاظتی نظام کو مؤثر بنایا جائے، تحقیقات کا معیار بہتر کیا جائے اور ملک گیر سطح پر بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی و تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔













