اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے انہیں زہر دینے، گولی مارنے اور بے جا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔
عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے اس سلسلے میں دائر درخواستوں پر 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ’پکڑنا، بانجھ بنانا، ویکسین لگانا اور آزاد کرنا‘ (ٹراپ، اسٹرلائز، ویکسین اور ریلیز) کا سائنسی طریقہ کار اختیار کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
عدالت نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سال 2020 میں تیار کی گئی آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں، جس میں کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی ویکسینیشن اور نس بندی کو ترجیح دی گئی ہے۔
یہ درخواستیں اسلام آباد کے شہریوں کی جانب سے اس وقت دائر کی گئی تھیں جب گذشتہ سال اکتوبر میں سی ڈی اے کی ایک گاڑی میں مردہ کتوں کی تصاویر منظرِ عام پر آئی تھیں۔
سماعت کے دوران عینی شاہدین، جن میں ڈاکٹر غنی اکرام، نویدہ عاصم اور نیلوفر شامل ہیں، نے عدالت میں گواہی دی کہ انہوں نے 9 اکتوبر کو سی ڈی اے کے دفتر کے قریب ایک ٹرک میں بڑی تعداد میں مردہ کتے لے جاتے ہوئے دیکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع راولپنڈی میں 5 ہزار سے زائد آوارہ کتوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن پر فی کتا تقریباً 19 ہزار روپے خرچ آرہا ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق چیف کمشنر نے اسلام آباد میں آوارہ کتوں کے انتظامات کی نگرانی کے لیے 7 ارکان پر مشتمل ایک پیشہ ور کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
عدالت نے انتظامیہ کو ایسی مادیوں کو پکڑنے سے روک دیا ہے جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں، اور ساتھ ہی پٹے والے، صحت مند یا ویکسین شدہ کتوں کو پکڑنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف ایک نامزد ویٹرنری ڈاکٹر ہی کسی کتے کے پاگل ہونے یا لاعلاج بیماری میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرسکتا ہے اور صرف وہی طبی طریقہ کار کے تحت اسے مارنے (یوتھینیشیا) کی اجازت دینے کا مجاز ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں میں خوف و ہراس
عدالت نے حکام کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ کتے کے کاٹنے کے واقعات اور ویکسینیشن کا ایک باقاعدہ ڈیٹا بیس قائم کریں، اور جانوروں پر ظلم کے معاملات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک رجسٹری بھی بنائی جائے۔
اس کے علاوہ ترلائی میں قائم آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے والے سینٹر کے ریکارڈ اور طریقہ کار میں مکمل شفافیت لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں آوارہ جانوروں کے انتظام کے لیے کسی یکساں قومی فریم ورک کا فقدان ہے اور صوبائی نظام بکھرا ہوا ہے، جبکہ ’پریوینشن آف کروئلٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1890‘ اب پرانا ہوچکا ہے جس میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔
سی ڈی اے کی گاڑی میں مردہ کتوں کی تصاویر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کارروائی کے دوران حکام ان کتوں کو مارنے کا کوئی بھی قانونی یا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی قرار، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا اعلان
فیصلے میں اصرار کیا گیا ہے کہ آوارہ اور جنگلی کتے بھی جاندار اور حساس مخلوق ہیں جنہیں ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا، اور آئین میں دیا گیا زندگی کا حق ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات، قرآن اور سنت میں جانوروں پر ظلم کی سخت ممانعت ہے اور تمام جانداروں کے ساتھ ہمدردی اور رحم دلی برتنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس فیصلے میں ملائیشیا، ترکی، انڈونیشیا اور بھارت سمیت دیگر ممالک میں آوارہ کتوں کے انتظام کے قوانین اور طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔













