سعودی عرب کے طلبہ کی بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی، 5 اعزازات اپنے نام کرلیے

اتوار 24 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب نے جنوبی کوریا میں منعقدہ 26ویں ایشین فزکس اولمپیاڈ میں 5 بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کرلیے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں جاری اس مقابلے میں 27 ممالک کے 209 طلبہ نے حصہ لیا، جبکہ ایونٹ پیر کے روز اختتام پذیر ہوگا۔

2012 میں اس مقابلے میں پہلی بار شرکت کے بعد سے اب تک سعودی عرب ایشین فزکس اولمپیاڈ میں مجموعی طور پر 27 اعزازات حاصل کر چکا ہے، جن میں 6 کانسی کے تمغے اور 21 تعریفی اسناد شامل ہیں۔

تمام طلبہ کو مقابلے سے قبل خصوصی تربیت دی گئی، جس میں نظریاتی اور عملی مشقیں، مقامی و بین الاقوامی تربیتی کیمپس اور مختلف انتخابی امتحانات شامل تھے۔

ایشین فزکس اولمپیاڈ باصلاحیت ثانوی درجے کے طلبہ کے لیے طبیعیات کا سالانہ مقابلہ ہے، جس کا آغاز 1999 میں انڈونیشیا میں ہوا تھا۔

یہ مقابلہ خطے میں سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور طلبہ کے درمیان علمی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، جہاں شرکا کو جدید نظریاتی اور عملی امتحانات کے ذریعے سائنسی استدلال، تجزیاتی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت پر جانچا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے