پاکستان میں کھالوں کی قیمت میں مسلسل کمی کیوں ہوتی جارہی ہے؟

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور دنیا بھر میں روایتی چمڑے کی جگہ بڑے پیمانے پر ریگزین لے چکا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی مکمل طور پر نہیں ہوئی، لیکن مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے ایک بہت بڑے حصے پر اب ریگزین اور دیگر مصنوعی متبادلات کا قبضہ ہے۔

پاکستان میں چمڑے کی صنعت جو ٹیکسٹائل کے بعد ملک کی دوسری بڑی برآمدی صنعت رہی ہے، اس وقت ریگزین کے بڑھتے ہوئے استعمال اور دیگر اندرونی مسائل کی وجہ سے شدید دباؤ اور نقصان کا سامنا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: قربانی کے جانوروں کی کھالیں کہاں جاتی ہیں، ان سے کیا کچھ بنتا ہے؟

روایتی چمڑے کی جگہ ریگزین آنے کی وجوہات

لیدر پراڈکٹس کے مقامی تاجر محمد وسیم کے مطابق مقامی مارکیٹ میں جوتے، جیکٹس، بیگز، صوفے اور گاڑیوں کی سیٹ کورز میں ریگزین کا استعمال چمڑے کے مقابلے میں 70سے 80 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ چمڑا ایک مہنگا اور پریمیم مٹیریل ہے، جبکہ ریگزین انتہائی سستا ہے۔ مہنگائی کے دور میں عام خریدار چمڑے کے جوتے یا بیگ کے بجائے ریگزین کو ترجیح دیتا ہے۔

بین الاقوامی رجحانات

لیدر ٹینری سے منسلک ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ویگن لیدر اور ماحول دوست متبادلات کی مانگ بڑھی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی برانڈز بھی مصنوعی چمڑے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ریگزین کو مختلف رنگوں، ٹیکسچر اور ڈیزائنز میں تیار کرنا چمڑے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور تیز رفتار ہے۔

پاکستانی چمڑے کی صنعت کو پہنچنے والا نقصان

ماضی میں پاکستان کی لیدر برآمدات 1.25 بلین ڈالر تک پہنچ چکی تھیں، اب سکڑ کر 800 سے 900 ملین ڈالر کے آس پاس رہ گئی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سستے مصنوعی متبادل نے پاکستان کے روایتی خریداروں جیسے جرمنی، امریکہ اور نیدرلینڈز کو دیگر مصنوعات کی طرف راغب کیا ہے۔

معاشی ماہر جنید خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورنگی لیدر ایریا، سیالکوٹ اور قصور میں قائم سینکڑوں ٹینریز یا تو مستقل بند ہو چکی ہیں یا اپنی گنجائش سے بہت کم پر کام کر رہی ہیں۔ مقامی مارکیٹ میں چمڑے کے جوتوں اور بیگز کی مانگ کم ہونے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچررز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ماضی میں قربانی کے جانوروں کی کھالیں ٹینریز کے لیے خام مال کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتی تھیں۔ چمڑے کی مانگ گرنے کی وجہ سے اب قربانی کی کھالوں کی قیمتیں انتہائی کم ہو چکی ہیں، اور مناسب قیمت نہ ملنے یا وقت پر پروسیسنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں ہوگا کہ لیدر انڈسٹری کی تباہی کا واحد سبب ریگزین ہے۔

پیداواری لاگت

جنید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی، گیس اور کیمیکلز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چمڑے کی تیاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی ہو چکی ہے۔

عالمی سرٹیفیکیشنز کا فقدان

بین الاقوامی برانڈز اب صرف ان ٹینریز سے چمڑا خریدتے ہیں جن کے پاس لیدر ورکنگ گروپ کی سرٹیفیکیشن ہو، پاکستان میں موجود چند بڑے اداروں کے علاوہ زیادہ تر ٹینریز کے پاس فنڈز کی کمی کے باعث یہ سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیموں کو ہرگز نہ دیں، محکمہ داخلہ پنجاب کا انتباہ

مصنوعی چمڑے کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے حالیہ سالوں میں خام کھالوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، ماضی میں گائے کی جو کھال 4,000 سے 5,000 روپے تک فروخت ہوتی تھی، وہ حالیہ سالوں میں کوالٹی اور مارکیٹ کریش کی وجہ سے 500 سے 1500 روپے کے درمیان دیکھی گئی۔ اسی طرح بکرے کی کھال جو کبھی 1,000 سے 1,500 روپے میں بکتی تھی، وہ کم ہو کر 200 سے 400 روپے تک گر گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟