امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں چند روز لگ سکتے ہیں، جبکہ امریکا نے جنوبی ایران میں تازہ دفاعی حملوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ پر اختلافات: مارکو روبیو کی نیٹو وزرا سے ملاقات، ڈونلڈ ٹرمپ اسپین اور جرمنی سے شدید ناراض
بھارتی شہر جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے اور اسے کھلا رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حملوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں اور میزائل لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمان کے مطابق جنگ بندی کے باوجود ایرانی خطرات کے پیش نظر امریکی افواج کے تحفظ کے لیے جنوبی ایران میں کارروائیاں کی گئیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران نے نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک دشمن اسٹیلتھ ڈرون مار گرایا ہے۔
ادھر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کی، جہاں امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے، آبنائے ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر بات چیت کی گئی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا سفارتکاری کو ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں مزید حملوں کا انتباہ دیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل، ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔













