دنیا بھر میں پہلے کی نسبت بچوں میں جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا بہت کم ہوگیا ہے جس لے باعث ان کی صحت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 8 سالہ بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا بھی فراخدلانہ اعتراف
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین بتاتے ہیں کہ کم حرکت، اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا، غیر صحت بخش خوراک اور کھیلوں میں کم شرکت بچوں میں موٹاپے اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق ہر 10 میں سے ایک بچہ یا نوجوان موٹاپے کا شکار ہے جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ کم از کم 60 منٹ جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے تاہم بہت سے بچے اس ہدف کو پورا نہیں کر پاتے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچپن میں فعال رہنے والے افراد بڑے ہو کر بھی زیادہ متحرک زندگی گزارتے ہیں جبکہ کھیل کود میں حصہ لینے والے بچوں کی مجموعی صحت، تعلیمی کارکردگی اور ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: 5 سالہ بچے کی خواہش پر امریکی خاندان نے انوکھا عالمی ریکارڈ بنادیا
جسمانی سرگرمی نہ صرف بچوں کی جسمانی صحت بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
ورزش دماغی کارکردگی، توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق متحرک بچے پیچیدہ ذہنی کام بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں اور ان میں ردعمل کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اسکولوں میں جسمانی سرگرمی کے زیادہ مواقع فراہم کرنے سے بچوں میں موٹاپے کی شرح کم ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ صرف باقاعدہ کھیل ہی کروائے جائیں بلکہ کلاس روم میں کھڑے ہو کر جواب دینا، وقفوں میں زیادہ حرکت کرنا اور کھیل کے آزادانہ مواقع دینا بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق والدین کی حوصلہ افزائی بھی بچوں کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر والدین خود بھی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور بچوں کے ساتھ چہل قدمی، سائیکلنگ یا کھیل کود کریں تو بچوں میں بھی فعال رہنے کا رجحان بڑھتا ہے۔
مزید پڑھیں: والدین کی ذرا سی لاپروائی، 12 سالہ بچے نے پورا دفتر جلا ڈالا
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو اپنی پسند کی سرگرمیوں کا انتخاب کرنے کی آزادی دی جائے۔ چاہے درخت پر چڑھنا ہو، دوڑنا ہو یا کھیل کے میدان میں آزادانہ کھیلنا ہر قسم کی حرکت بچوں کی صحت، خوشی اور بہتر مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔














