مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے کیے جانے والا ابراہام معاہدہ بظاہر معاشی تعاون، سکیورٹی شراکت داری اور علاقائی ترقی کے ایک نئے باب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم ناقدین کے نزدیک یہ فلسطینی مسئلے کے بنیادی حل کے بجائے خطے میں نئی سیاسی سازش و صف بندی کا ذریعہ بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف دوٹوک، ابراہام اکارڈز سے جوڑنے کا تاثر غلط
اس معاہدے کو بظاہر معاشی، سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر تعاون کے نام پر پیش کیا جارہا ہے لیکن درحقیقت اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو جغرافیائی، معاشی اور جیوپولیٹیکل طور پر مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے مضبوط بنانا ہے۔
ان معاہدوں کے تحت یعنی میٹھی باتوں میں لپٹا ہوا زہر فلسطین کے 2 ریاستی حل کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کو فلسطین، لبنان اور دیگر علاقوں کی غیرقانونی طور پر قبضہ شدہ سرزمین ہضم کرنے کی کھلی گنجائش مل رہی ہے۔
مزید پڑھیے: مشرق وسطیٰ کے ممالک کا ’ابراہام معاہدے‘ میں شامل ہونا اہم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کی مکمل حمایت اور دباؤ ابراہام معاہدوں کے پیچھے صرف اسرائیل کے فائدے کے لیے ہے جبکہ یہ جیوپولیٹیکل طور پر خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ایسا معاہدہ ہے جو مشرق وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران امریکا معاہدے میں پیش رفت کے دوران اچانک ابراہام معاہدوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور انہیں لازمی شرط کے طور پر پیش کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور دیگر مقامات پر موجود صہیونی مسیحی لابی اپنے پوشیدہ مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سرگرم ہے۔
مزید پڑھیں: ابراہام معاہدے سے متعلق حکومت پر ٹرمپ یا کسی اور کا کوئی دباؤ نہیں، بیرسٹر عقیل ملک
اس مرحلے پر ابراہام معاہدوں کو دوبارہ سامنے لانے اور انہیں ایران تنازعے سے جوڑنے کا ایک اور مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہو اور مشرق وسطیٰ میں وسیع امن قائم نہ ہو سکے کیونکہ جیسا کہ ٹرمپ نے خود کہا کہ کچھ ممالک کبھی بھی موجودہ شکل میں ان معاہدوں پر دستخط نہیں کریں گے کیونکہ یہ صرف صہیونیت اور اسرائیل کے مبینہ ’گریٹر اسرائیل‘ ایجنڈے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔














